تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 276 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 276

کرتے ہیں کہ قرآن کریم پچھلی اقوام کے قصص بیان کرتا ہے۔قرآن کریم تو جو تاریخی واقعہ بھی بیان کرتا ہے وہ صرف یہ خبر دینے کے لئے کرتا ہے کہ آئندہ مسلمانوں سے بھی ایسا ہی ہونے والا ہے چنانچہ ایک بھی تاریخی واقعہ قرآن کریم میں ایسا بیان نہیں ہوا کہ جس کے مشابہ واقعہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا آپ کی امت کے ساتھ نہ گذرا ہو یا جو آئندہ نہ گذرنے والا ہو۔اوپر کی آیات میں حضرت نوح علیہ السلام کا جو واقعہ بیان ہوا ہے اس کے متعلق مسلمانوں اور مسیحیوں اور یہودیوں میں بہت کچھ اختلاف ہے۔چونکہ کسی ایک آیت کے نیچے اس واقعہ کا ذکر نہیں ہوسکتا تھا اس لئے میں سب آیات کے آخر میں اس کے متعلق اپنی تحقیق اور دوسرے لوگوں کے خیالات لکھ دیتا ہوں۔حضرت نوح کے واقعہ پر اجمالی نظر بائیبل سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام لمک کے بیٹے تھے۔اور حضرت آدم علیہ السلام سے نویں پشت میں تھے۔(حضرت آدم کو شمار کرکے دسویں) جب وہ پانچ سو برس کے ہوئے تو ان کے ہاں سم ،حام اور یافث پیدا ہوئے (پیدائش باب۵ ،۲۸ تا ۳۲) اہل دنیا کی شرارت کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ نے ان کو تباہ کرنے کا ارادہ کیا مگر چونکہ نوح ؑ نیک تھا خدا نے اسے پسند کیا اور اسے ایک کشتی بنانے کا حکم دیا اور ارشاد کیا کہ علاوہ بیوی بچوں کے کشتی میں طوفان کے وقت حلال جانوروں میں سے سات سات جانور اور دوسرے جانوروں میں سے ایک ایک جوڑا ہر اک قسم کا چڑھا لے (پیدائش باب۶) طوفان کے آنے پر دنیا کے تمام جانور اور انسان ہلاک ہو گئے۔مگر نوح ؑ اور ان کے اہل و عیال کشتی کے ذریعے سے بچ گئے اور ان کے اور ساتھ کے جانوروں کے ذریعے سے پھر دنیا آباد ہوئی۔اور طوفان کے بعد کشتی اراراٹ پہاڑ کی چوٹی پر ٹھہر گئی۔(باب ۷ و ۸) اس کے بعد نوح اور اس کی اولاد سے دنیا پھر بسنے لگی۔اور نوح کھیتی باڑی کرنے لگا۔ا ور اس نے ایک انگور کا باغ لگایا۔ایک دن اس کی شراب پی کر نشہ میں مست ہو گیا۔اس کے بیٹے حام نے سب سے پہلے اسے ننگا دیکھا اور باقی بھائیوں کو بتایا۔انہوں نے الٹے پاؤں آکر بغیر دیکھے اس پر کپڑا ڈال دیا۔نوح جب ہوش میں آئے تو انہوں نے حام کو بددعا دی اور اس کی اولاد کی نسبت جس نے کنعان کہلانا تھا اور ملک کنعان کو آباد کرنا تھا سام کی غلامی کی پیشگوئی کی اور اسی طرح یہ خبر بھی دی کہ حام کی اولاد یافث کی اولاد کی بھی غلام ہوگی۔(پیدائش باب ۹) بائیبل سے معلوم ہوتا ہے کہ نوح کی اولاد طوفان کے بعد عراق میں آباد ہو ئی بائیبل سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ طوفان کے بعد نوح کی اولاد عراق موجودہ میں آباد ہوئی۔کیونکہ لکھا ہے کہ حام کے پوتے نے بابل وغیرہ پر حکومت کی(پیدائش باب ۱۰)۔یہودیوں کی احادیث اور روایات کی کتب میں بائیبل سے کسی قدر اختلاف