تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 261
تفسیر۔ضروری ہے کہ انبیاء کی بعض باتوں کو دنیا کے لوگ ماننے کے لئے تیار نہ ہوں جب کبھی بھی خدا تعالیٰ کے مامور دنیا میں آتے ہیں لوگ ان کی باتوں کو ہنسی میں اڑانا چاہتے ہیں اور چونکہ وہ ایسی باتیں کرتے ہیں جن کے ماننے کے لئے ابھی دنیا تیار نہیں ہوتی اس لئے دشمنوں کو اور زیادہ ہنسی کا موقع مل جاتا ہے۔نادان لوگ نہیں سمجھتے کہ اگر غیر معمولی کام ان کے ذمہ نہ لگایا گیا ہو جس کا سمجھنا انسانی عقل سے بالا ہو تو اللہ تعالیٰ کو مامور بھیجنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ جب باوجود عقل کے انسان اپنی مصیبتوں سے آزاد نہیں ہوسکتا اور جب اس کی عقل اپنے گرد و پیش کے حالات پر قیاس کرکے جو علاج سوچتی ہے وہ اس کی ترقی کا موجب نہیں بلکہ اس کی ہلاکت کا موجب ہوتا ہے تبھی تو خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور آتے ہیں اور چونکہ ان کا علاج بالکل نرالا ہوتا ہے لوگوں کو طبعاً ان کی بات غیرمعقول معلوم ہوتی ہے اور دشمنوں کو شرارت اور ہنسی کا موقع مل جاتا ہے۔لیکن نتیجہ کیا ہوتا ہے یہی کہ انبیاء اور ان کی جماعتیں تو کامیاب ہوجاتی ہیں اور ان کے دشمن ہمیشہ کے لئے بے وقوفوں میں شامل ہوجاتے ہیں۔فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ يَّاْتِيْهِ عَذَابٌ يُّخْزِيْهِ وَ يَحِلُّ پھر جلد تمہیں معلوم ہو جائے گا( کہ) وہ کون (فریق) ہے جس پر ایساعذاب آرہا ہے جو اسے رسوا کردے گا۔اور عَلَيْهِ عَذَابٌ مُّقِيْمٌ۰۰۴۰ جس پر ڈیراڈال دینے والا عذاب نازل ہو رہا ہے۔حلّ لُغَات۔اَخْزٰی اَخْزَاہُ اِخْزَاءً۔اَوْقَعَہٗ فِی الْـخِزْیِ وَاَھَانَہٗ۔اس کو رسوائی میں مبتلا کر دیا۔ذلیل کردیا۔اَللہُ فُلَانًا فَضَحَہٗ جب خدائےتعالیٰ فاعل ہو تو اس کے معنی ہوتے ہیں کہ اس نے اس کی پردہ دری کی۔(اقرب)یَـحِلُّ عَلَیْہِ اَوْیُــحَلُّ عَلَیْہِ یَـجِبُ عَلَیْہِ وَیَنْزِلُ۔اس پر واجب ہوجائے گا اور نازل ہوگا۔(منجد) تفسیر۔عَذَابٌ يُّخْزِيْهِ۔عذاب کئی قسم کے ہوتے ہیں۔ایک ایسےعذاب کہ جن کے آنے سے دوسرے لوگوں کو عذاب پانے والوں پر رحم آتا ہے جیسے کسی کا مکان گرجائے تو سب لوگ اس پر رحم کرتے ہیں۔ایسے عذابوں کے ساتھ رسوائی کا پہلو نہیں ہوتا۔مگر بعض عذاب رسوائی کا پہلو بھی ساتھ رکھتے ہیں۔جیسے مثلاً یہ کہ کسی شخص کا جھوٹ کھل جائے یہ عذاب بھی ہے اور اس کے ساتھ رسوائی بھی ہے۔یا مثلاً ایسا عذاب ہو کہ اسے لوگوں سے بطور عبرت کے یاد رکھوایا جائے جیسے قوم نوح ؑ کا عذاب کہ آج تک لوگوں میں اس کی یاد قائم ہے۔