تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 260 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 260

میرے نزدیک بِاَعْيُنِنَا وَ وَحْيِنَا سے دو کشتیوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔ایک وہ کشتی جو مومنوں کی مدد سے تیار ہونی تھی اور دوسری جو وحی سے تیار ہونی تھی۔پہلی سے مراد جسمانی کشتی ہے اور دوسری سے مراد روحانی کشتی ہے۔یعنی تقویٰ جو انسان کو عذاب الٰہی سے بچالیتا ہے۔لَا تُخَاطِبْنِيْ کی دلالت کہ اپنی طرف سے حضرت نوح نے بددعا نہیں کی تھی یہ جو فرمایا ہے کہ ظالموں کے بارہ میں مجھ سے کچھ نہ کہیو اس سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نوح ؑ نے بددعا اپنی طرف سے نہیں کی تھی۔اگر وہ بددعا کررہے ہوتے تو انہیں دعا کرنے سے روکنے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔وَ يَصْنَعُ الْفُلْكَ١۫ وَ كُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ مَلَاٌ مِّنْ قَوْمِهٖ اور وہ کشتی بناتا تھا اور جب بھی اس کی قوم میں سے کوئی بڑے لوگوں کی جماعت اس کے پاس سے گذرتی سَخِرُوْا مِنْهُ١ؕ قَالَ اِنْ تَسْخَرُوْا مِنَّا فَاِنَّا نَسْخَرُ مِنْكُمْ تو اس پر ہنستی (جس پر) اس نے (ان لوگوں سے) کہا(کہ) اگر (آج) تم (لوگ) ہم پر ہنستے ہو۔تو( کل) ہم كَمَا تَسْخَرُوْنَؕ۰۰۳۹ (بھی) تم پر ہنسیں گے جیسا کہ (آج) تم( ہم پر) ہنستے ہو۔حلّ لُغَات۔سَـخِرَسَخِرَ مِنْہُ عربی زبان کا قاعدہ ہے کہ کسی فعل کی جزا کے لئے بھی وہی لفظ بول دیتے ہیں۔جو اس فعل کے لئے بولا گیا ہو۔قرآن کریم میں یہ محاورہ متعدد جگہ استعمال کیا گیا ہے۔جیسے جَزَآءُ سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مِثْلُھَا اور فَاعْتَدُوْا عَلَیْہِ بِمِثْلِ مَااعْتَدَی عَلَیْکُمْ یہ بات ظاہر ہے کہ ہر امر کی سزا کو زیادتی کرنا نہیں کہا جاسکتا۔بلکہ زیادتی کرنا جرم سے زیادہ سزا دینے کو کہتے ہیں مگر باوجود اس کے یہاں برابر کی سزاء کا نام بھی اعتداء رکھا گیا ہے۔اسی طرح ایک شاعر کا قول ہے وَدَاوَوْا بِالْـجُنُوْنِ مِنَ الْجُنُوْنِ (دیوان الحماسۃ من باب الحماسۃ وقال أبوالغول الطھوی)۔مطلب یہ کہ دشمنوں نے اپنی طاقت کا اندازہ صحیح نہ کرکے اور اس زبردست مقام پر حملہ کرکے اپنے جنون کا ثبوت دیا حالانکہ طاقتور کا کمزور پر حملہ کرنا جنون نہیں ہوتا۔بلکہ کمزور کا طاقتور پر حملہ کرنا جنون کہلاتا ہے مگر یہاں پر جنون کی سزا کے لئے بھی جنون کا لفظ بول دیا گیا ہے۔