تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 255
اور اس لفظ کو لام کے صلہ سے استعمال کرنا زیادہ فصیح ہے۔غَوٰی یُغْوِیَکُمْ غَوٰی یَغْوِیْ غَیًّا۔ضَلَّ وَخَابَ وَانْھَمَکَ فِی الْجَھْلِ وَھَلَکَ گمراہی۔ناکامی اور جہالت میں پڑ کر تباہ ہو گیا۔غَوِیَ غَوَایَۃً ضَلَّ۔گمراہ ہو گیا۔اَغْوَاَہُ اَضَلَّہٗ اَغْوَاہُ کے معنی اسے برباد اور ہلاک کر دیا۔(اقرب) تفسیر۔حضر ت نوح علیہ السلام فرماتے ہیں کہ مجھے بے شک تمہاری ہدایت کی خواہش ہے اور میں تم سے بہت اخلاص رکھتا ہوں مگر میرا اخلاص خدا کی محبت سے جو تمہارا رب ہے بڑھ کر نہیں ہوسکتا۔جب وہ دیکھے کہ تمہارا ہلاک ہونا ہی ٹھیک ہے تو پھر میرے ارادے تو اس کے تابع ہیں۔حضرت نوح ؑ نے اپنی قوم پر خودبخود بددعا نہیں کی تھی یہ آیت نہایت واضح طور پر اس اعتراض کو رد کرتی ہے جو کہا جاتا ہے کہ حضرت نوح ؑ نے خود بددعا کی۔حضرت نوح ؑ نے بددعا نہیں کی بلکہ خدا تعالیٰ نے خود کروائی۔وہ تو صاف کہہ رہے ہیں کہ اگر خدا ہلاک کرنا چاہے تو میں کیا کرسکتا ہوں۔پھر ھُوَرَبُّکُمْ کہہ کر اللہ تعالیٰ پر سے بھی اعتراض کو دور کر دیا۔اور یہ بتا دیا کہ جب اس نے جو تمہارا رب ہے تمہاری ہلاکت کا فیصلہ کیا ہے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ اب تمہاری ہلاکت ہی تمہارے لئے اور دوسروں کے لئے مفید ہے۔اَمْ يَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ اِنِ افْتَرَيْتُهٗ فَعَلَيَّ اِجْرَامِيْ وَ کیا وہ کہتے ہیں (کہ) اس نے اس (وعدہ عذاب وغیرہ) کو اپنے پاس سے گھڑ لیا ہے۔تو( انہیں) کہہ اگر میں نے اَنَا بَرِيْٓءٌ مِّمَّا تُجْرِمُوْنَؒ۰۰۳۶ اسے اپنےپاس سے گھڑ لیا ہے تو میرا یہ خطر ناک جرم( ضرور) مجھ پر (ہی وبال بن کر) پڑے گا۔اور (تمہارے جرموں کا وبال مجھ پر نہیں ہو گا کیونکہ) جو خطرناک جرم تم کرتے ہو ان سے میں بے زار ہوں۔حلّ لُغَات۔اِجْرَامٌ۔اِجْرَامٌ اَجْرَمَ کی مصدر سے ہے۔جس کے معنی ہیں اَذْنَبَ گناہ کیا۔عَظُمَ جُرْمُہٗ بہت بڑے گناہ کا مرتکب ہوا۔(اقرب) پس اِجْرَام کے معنے ہوئے بہت بڑا گناہ کرنا۔تفسیر۔اس آیت میں بھی حضرت نوح علیہ السلام ہی کا ذکر ہے نہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اور فرق صرف یہ ہے کہ پہلے تو حضرت نوح ؑ لوگوں کومخاطب کرتے تھے اب اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کو مخاطب کیا