تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 256
ہے کہ تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ اگر میں جھوٹ بول رہا ہوں اور یہ سب امور اپنے پاس سے بنا رہا ہوں تو یہ تو ایک بہت ہی بڑا گناہ ہے۔اور اس کی سزا مجھے ملے گی پس تم کو گھبرانے کی ضرورت نہیں اور اگر میں سچا ہوں تو تمہارا انکار بھی ایک بہت بڑا گناہ ہے اس کی سزا تم کو ملے گی اور مجھے اس سے کوئی خوف نہیں۔حضرت نوح ؑ کا دعوائے عصمت ’میں تمہارے جرموں سے بری ہوں‘ کہہ کر حضرت نوح علیہ السلام نے افتراء کے الزام کا ایک اور بھی لطیف جواب دیا ہے جو یہ ہے کہ تم لوگ ذرا غور تو کرو کہ تمہاری قوم میں جتنے گناہ پائے جاتے ہیں میں ان سب سے پاک ہوں۔پھر کس طرح ممکن تھا کہ خدا پر جھوٹ باندھنے کا جو بدترین گناہ ہے اس کا میں مرتکب ہو جاتا۔کیا عقل اس بات کو تسلیم کرسکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔پس افتراء کا الزام بالکل باطل ہے۔اس جگہ پر ویری صاحب نے ایک اعتراض کیا ہے وہ لکھتے ہیں کہ یہ جو بعض لوگوں نے کہا ہے کہ اس آیت میں حضرت نوح مراد ہیں اور انہی کی طرف سے یہ جواب دیا گیا ہے یہ بالکل غلط ہے۔بلکہ اصل بات یہ ہے کہ (نعوذباللہ) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود قرآن بنایا کرتے تھے۔بناتے بناتے اس جگہ بھول گئے کہ میں اپنی بات کرتا ہوں یا نوح کی اور جھٹ کہہ دیا اَمْ يَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ الٓایۃ میرے نزدیک معنی تو وہی صحیح ہیں جو میں اوپر بیان کر آیا ہوں لیکن ویری صاحب کا کلام پڑھنے کے بعدمیں ان معنوں کو بھی صحیح سمجھتا ہوں اور میرے نزدیک اس میں اللہ تعالیٰ نے ویری صاحب کے اعتراض ہی کا جواب دیا ہے اور وہ اس طرح سے کہ ویری صاحب نے آیت وَلَااَقُوْلُ لَکُمْ عِنْدِیْ خَزَائِنُ اللّٰہِ(ہود:۳۲)وغیرہ کے متعلق لکھا ہے کہ یہ اعتراض نوح علیہ السلام پر نہیں ہوئے تھے بلکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہوئے تھے مگر انہوں نے ان کا جواب حضرت نوح کی زبان سے دیا تاکہ لوگ یہ سمجھیں کہ ایسے اعتراض ہمیشہ سے ہوتے چلے آئے ہیں کوئی نئے اعتراض نہیں ہیں۔گویا ویری صاحب نے اس اعتراض میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر افتراء کا الزام لگایا ہے پس بالکل ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو عالم الغیب ہے پہلے ہی سے اس جگہ جملہ معترضہ کے طور پر ویری صاحب اور ان کی طرح کے دوسرے معترضوں کا جواب دے دیا ہو۔اور فرما دیا ہو کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) آئندہ زمانہ میں بعض لوگ پچھلی باتوں پر اعتراض کریں گے اور کہیں گے کہ یہ نوح ؑ کی کہی ہوئی نہیں بلکہ تو نے اپنے پاس سے بنائی ہیں۔تو بھی ان کو یہ بات جواب میں کہہ دے کہ اگر میں مفتری ہوں تو اس کی سزا خدا سے پاؤں گا۔اور اس سے بچ نہیں سکتا۔مگر واقعات نے بتلا دیا کہ جسے ویری صاحب خدا کا بیٹا قرار دیتے ہیں اسے تو دشمن پھانسی پر لٹکانے میں کامیاب ہو گئے لیکن جسے وہ مفتری قرار دیتے ہیں وہ اپنے دشمنوں پر غالب آ گیا۔کیا مفتری کے ساتھ یہی سلوک کیا جاتا ہے؟ اسی طرح اپنے زمانہ کے