تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 254 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 254

سمجھ لیا کہ اس میں ہماری ہلاکت کی بھی خبر ہے اور مطالبہ پیش کردیا کہ اچھا بحث جانے دو یہ بتاؤ کہ جو تم نے ہماری ہلاکت کی خبر دی ہے وہ کب پوری ہوگی؟ قَالَ اِنَّمَا يَاْتِيْكُمْ بِهِ اللّٰهُ اِنْ شَآءَ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ۰۰۳۴ اس نے کہا اسے (صرف)اللہ ہی اگر چاہے گا تو لائے گا اور تم (اسے اس کے لانے سے )ہر گز عاجز نہیں کر سکتے۔تفسیر۔وعیدی پیشگوئیوں کے متعلق تین اصول حضرت نوح علیہ السلام نے جواب دیا کہ سمجھ تو تم ٹھیک گئے ہو لیکن عذاب کا لانا اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے میرے اختیار میں نہیں۔اس آیت میں وعیدی پیشگوئیوں کی نسبت تین اصل بتائے ہیں۔اول یہ کہ ان کے اوقات عام طور پر مخفی رکھے جاتے ہیں۔دوسرے یہ کہ وہ ٹل سکتی ہیں کیونکہ ان شاء کہہ کر بتادیا ہے کہ عذاب کی خبر مل بھی جائے تب بھی مشیت الٰہی سے معلق رہتی ہے۔تیسرے یہ کہ تفصیلی پیشگوئیاں خواہ ٹل بھی جائیں اصولی فیصلہ کہ خدا تعالیٰ کے بندے غالب ہوکر رہیں گے نہیں بدلتا۔تبھی فرمایا کہ خدا چاہے گا تو عذاب آجائے گا لیکن بہرحال خواہ عذاب آئے یا نہ آئے تم لوگ مومنوں پر غالب نہیں آسکتے اور اللہ تعالیٰ کے کام میں روک نہیں بن سکتے۔وَ لَا يَنْفَعُكُمْ نُصْحِيْۤ اِنْ اَرَدْتُّ اَنْ اَنْصَحَ لَكُمْ اِنْ اوراگر میں( ذاتی طور پر) تم سے خلوص (کا تعلق) رکھنا چاہوں (بھی) تو میرا (تم سے) خلوص رکھنا تمہیں (اللہ كَانَ اللّٰهُ يُرِيْدُ اَنْ يُّغْوِيَكُمْ١ؕ هُوَ رَبُّكُمْ١۫ وَ اِلَيْهِ کے عذاب سے بچنےکے لئے) کوئی نفع نہیں پہنچا ئے گا۔اگر اللہ( تعالیٰ یہ) چاہتا ہو کہ تمہیں ہلاک کرے وہ تمہارا تُرْجَعُوْنَؕ۰۰۳۵ رب ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔حلّ لُغَات۔نَصَحَ۔نُصْحِیْ نَصَحَہٗ وَ نَصَحَ لَہٗ نَصْحًا وَنُصْحًا وَنَصَاحَۃً وَ نَصَاحِیَۃً یَنْصَحُہٗ۔اَیْ وَعَظَہٗ۔اسے نصیحت کی۔وَاَخْلَصَ لَہٗ المَوَدَّۃَ۔اور اس سے بغیر ملونی کے محبت کی۔وَالْاَفْصَحُ بِصِلَۃِ اللَّامِ