تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 253
کرتے ہو لیکن کون کہہ سکتا ہے کہ آئندہ کیا ہوگا۔میں تو یہ بات نہیں کہہ سکتا کہ آئندہ ان کو خدا تعالیٰ کی طرف سے بہتر سے بہتر جزا نہ ملے گی۔یہ ایک لطیف پیرایہ ہے اس امر کے کہنے کا۔کہ آئندہ بہتر بدلے ان کو ملنے والے ہیں۔اس قسم کا کلام ایکتعریضی اثر رکھتا ہے اور زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔چنانچہ اگلے حصہ آیت میں آپ اس کی تفصیل بھی کردیتے ہیں کہ رذیل تو وہ شخص ہوتا ہے جس کا دل گندہ ہو اور دل کا حال خدا جانتا ہے۔تم ظاہری حالت پر قیاس کرتے ہو حالانکہ ظاہری غربت سے انسان رذیل نہیں بنتا۔بلکہ دل کی ناپاکی سے رذیل بنتا ہے اور چونکہ اللہ تعالیٰ ہی دلوں کو دیکھنے والا ہے اس لئے اگر یہ رذیل نہ ہوئے یعنی دل کے گندے نہ ہوئے تو یقیناً وہ ان کو ان کی خدمات کے صلہ میں اعلیٰ سے اعلیٰ بدلہ دے گا۔کسی کے ظاہر کے خلاف اس پر فتویٰ لگانا ظلم ہے آخری حصہ میں بتا دیا کہ ناحق دعویٰ کرنے والا یا کسی شخص پر بلاوجہ فتویٰ لگا دینے والا ظالم ہوتا ہے۔پس میں تو نہ اپنی نسبت وہ باتیں کہتا ہوں جن کا مجھے حق نہیں اور نہ مومنوں پر ان کے ظاہر کے خلاف فتویٰ لگانے کے لئے تیار ہوں۔افسوس! کہ اللہ تعالیٰ کے نبی تو ظاہر کے خلاف فتویٰ لگانے سے اس قدر اجتناب کرتے ہیں لیکن دوسرے لوگ جن کے لئے زیادہ خوف کا مقام ہے چھوٹی چھوٹی باتوں کی وجہ سے خطرناک سے خطرناک اتہام لگانے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں۔ظلم کسی کا حق دوسرے کو دے دینے کا نام ہے۔پس مطلب یہ ہے کہ اگر میں پہلی بات کہوں تو اس صورت میں خدا کا حق اپنے آپ کو دینے والا بن جاؤں گا۔اور دوسری بات کہوں تو میں مومنوں کا حق چھیننے والا قرار پاؤں گا۔گویا دونوں صورتوں میں میں ظالم بن جاؤں گا۔قَالُوْا يٰنُوْحُ قَدْ جٰدَلْتَنَا فَاَكْثَرْتَ جِدَا لَنَا فَاْتِنَا بِمَا انہوں نے کہا( کہ) اے نوح تو ہم سے (خوب) بحث کر چکا ہے۔اور تو ہم سے بہت (دفعہ) بحث کر چکا ہے۔اب تو تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ۰۰۳۳ اگرراستبازوں میں سے ہے تو (باتوں کو جانے دے اور) جس (عذاب) کاتو ہمیںوعدہ دیتا ہے اسے ہم پر لے آ۔تفسیر۔چونکہ اوپر کی آیات میں حضرت نوح ؑ نے اشارۃً مومنوں کی ترقی کی پیشگوئی کی تھی اور یہ ظاہر امر تھا کہ مومن تبھی ترقی کرسکتے تھے جبکہ ان کے دشمن ہلاک ہوکر ان کے لئے راستہ صاف کریں۔اس لئے کفار نے