تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 249
وَ يٰقَوْمِ لَاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ مَالًا١ؕ اِنْ اَجْرِيَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ اور اے میری قوم میں اس کی بابت تم سے کوئی مال نہیں مانگتا میرا اجر اللہ (تعالیٰ) کے سوا(اور) کسی پر نہیں اور میں ان وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا١ؕ اِنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ لٰكِنِّيْۤ لوگوں کو جو(مجھ پر) ایمان لائے ہیں ہرگز نہیں دھتکاروں گا۔وہ (تو) اپنے رب سے ملنے (کاشرف پانے) والے اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ۰۰۳۰ ہیں۔بلکہ (اس سےبڑھ کر بات یہ ہے کہ) میں تمہیں ایسے لوگ خیال کرتاہوں جو جہالت سے کام لیتے ہیں۔حلّ لُغات۔طَرَدَ۔طَارِدٌ طَرَدَ سے اسم فاعل ہے۔طَرَدَ کے معنی ہیں۔ابعد۔دور کر دیا۔ہٹا دیا۔رد کر دیا۔(اقرب) تفسیر۔مجھے جھوٹ بولنے سے کوئی فائدہ نہیں ان کے تعصب کی حالت کو بیان کرنے کے بعد حضرت نوح ؑ اپنی صفائی پیش کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ عقل مند انسان جو کام کرتا ہے کسی مقصد کے لئے کرتا ہے۔اگر میں ویسا ہی ہوں جیسا کہ تم سمجھتے ہو اور جھوٹا کلام بنا کر تم کو سنارہا ہوں تو یہ تو سوچو کہ اس میں میری غرض کیا ہے۔کیا میں اس کام میں کوئی فائدہ حاصل کررہا ہوں۔تم خوب جانتے ہو کہ میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگ رہا پھر مجھے جھوٹ بنانے کی ضرورت کیا پیش آئی تھی؟ حکومت بھی مقصود نہیں شاید کوئی شخص کہے کہ گو نوح ؑ اجر طلب نہیں کررہے تھے مگر آخر اپنے ماننے والوں پر حکومت تو کرتے تھے اور کئی لوگ حکومت کے حصول کے لئے جھوٹ بول لیتے ہیں لیکن یہ اعتراض بھی درست نہ ہوگا۔اس لئے کہ انبیاء اپنی تعلیم پر دوسروں سے زیادہ عامل ہوتے ہیں۔پس وہ کام جسے وہ خود دوسروں سے بڑھ کر کررہے ہوں حاکمانہ فعل نہیں کہلا سکتا۔اس صورت میں تو ان کی حکومت بھی خادمانہ حکومت ہی کہلاسکتی ہے جسے کوئی شخص لالچ اور حرص کے تابع قرار نہیں دے سکتا۔اپنی برأت کے بعد حضرت نوح علیہ السلام اپنے اتباع کی بریت کرتے ہیں اور پہلا جواب یہ دیتے ہیں کہ یہ لوگ ظاہر میں ایمان دار ہیں اور جب یہ ظاہر میں ایمان لاچکے تو میرا حق نہیں کہ میں وساوس اور شبہات کی بناء پر انہیں