تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 248 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 248

قَالَ يٰقَوْمِ اَرَءَيْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّيْ وَ اس نے کہا اے میری قوم (ذرا)بتاؤ( تو سہی کہ) اگر (ثابت ہو جائے کہ) میں (اپنے دعویٰ کی بنا) اپنے رب کی اٰتٰىنِيْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِهٖ فَعُمِّيَتْ عَلَيْكُمْ١ؕ اَنُلْزِمُكُمُوْهَا طرف سے (عطا شدہ) کسی کھلے نشان پر (رکھتا) ہوں اور اس نے اپنے حضور سے مجھے(اپنی ) ایک (بہت بڑی) وَ اَنْتُمْ لَهَا كٰرِهُوْنَ۰۰۲۹ رحمت عطا کی ہے اور وہ تم پر مشتبہ رہی ہے۔(توتمہارا کیا حال ہو گا) کیا ہم اس (روشن نشان) کو ماننا تم پر (جبراً) واجب کردیں گے اگر چہ تم اسے نا پسند کرتے ہو۔حلّ لُغات۔اَلْزَمَ اَلْزَمَ فُلَانًا اَلْمَالَ وَالْعَمَلَ اَوْجَبَہٗ عَلَیْہِ اس کے ذمہ ڈال دیا اس کی ادائیگی یا اس پر عمل پیرا ہونا ا سکے ذمہ لازم کر دیا۔(اقرب) تفسیر۔بلا تحقیق کسی امر سے نفرت رکھنا محرومی کا باعث ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد ہوتا ہے کہ اپنے مخالفوں کو توجہ دلائیں کہ تم تھوڑی دیر کے لئے فرض کرلو کہ یہ واقعہ صحیح ہے کہ مجھے اپنے رب کی طرف سے دلائل ملے ہیں اور اس نے مجھے اپنے پاس سے رحمت دی ہے اور پھر یہ بھی فرض کرلو کہ وہ بینات اور رحمت ایسی پیچیدہ صورت میں آئے ہیں کہ تمہیں نظر نہیں آتے تو بتلاؤ کہ کیا بغیر اس کے کہ تم غور کرو ہم تم کو سمجھا سکتے ہیں یعنی کسی حقیقت کے سمجھنے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ انسان اس پر غور و فکر کرے اور اسے ایسے راستہ سے سوچے جس کے ذریعہ سے اسے سمجھا جاسکے لیکن تم لوگ تو پہلے ہی اسے ناپسند کرنے لگے ہو۔اور سنتے ہی تم نے اسے ردی قرار دے دیا ہے۔پھر تمہارے سمجھنے کی کیا صورت رہ جاتی ہے۔صرف جبر ہی ہے۔سو وہ کیا نہیں جاسکتا۔جبری تبلیغ کے عقیدہ کا ابطال اس آیت سے جبری تبلیغ کے عقیدہ کی تردید ہوتی ہے۔اور معلوم ہوتا ہے کہ جو دین کو ناپسند کرے اسے جبراً دین نہیں سکھایا جاتا۔اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ جو کسی امر کی تحقیق کرنے کی بجائے اسے نفرت کی نگاہ سے دیکھنے لگ جاتے ہیں وہ حق سے محروم رہ جاتے ہیں۔جو شخص صداقت کا متلاشی ہو اسے چاہیےکہ اپنے دل کو ہمیشہ تعصب سے خالی رکھے اور سچی تلاش کی عادت ڈالے۔