تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 233 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 233

پہلے تھے اور مومن پیچھے تھے اور اس آیت میں اَفَمَنْ كَانَ والا وجود پہلے اوريَتْلُوْهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ والا پیچھے بتایا گیا ہے۔بعض نے شَاهِدٌ مِّنْهُ کے معنی ابوبکر کے اور بعض نے حضرت علی کے کئے ہیں مگر یہ بھی درست نہیں کیونکہ آیت میںشَاهِدٌ کے لئے مِنْہُ کی شرط لگائی گئی ہے۔یعنی وہ شاہد خدا تعالیٰ کی طرف سے اس شہادت کے لئے حکم پاکر کھڑا ہوگا۔اور حضرت ابوبکر اور حضرت علی کی طرف سے ہرگز یہ دعویٰ نہ تھا کہ ان کو خدا تعالیٰ نے شہادت کے لئے مبعوث کیا ہے۔بعض لوگوں نے عبداللہ بن سلام کو شاہد قرار دیا ہے۔لیکن ان پر بھی یہی اعتراض پڑتا ہے۔پس جاننا چاہیےکہ اس جگہ خصوصیت کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ہی ذکر ہے جن کا نزول خدا تعالیٰ کی طرف سے اسی رنگ میں ہونا تھا جیسے کہ پہلے بَیِّنَہ کا نزول ہوا تھا۔اور جن کی آمد کی غرض یہ تھی کہ وہ اسلام کی صداقت کی شہادت تازہ نشانوں سے دیں جبکہ اسلام کی صداقت اور اس کی قوت قدسیہ کے خلاف بہت سے امور جمع ہونے والے تھے۔کتاب موسیٰ کی شہادت کتاب موسیٰ کی شہادتیں بہت سی ہیں لیکن بڑی موٹی شہادت وہ ہے جو استثناء باب ۱۸ آیت ۱۸ میں ہے۔موسیٰ علیہ السلام کی کتاب قرآن کریم کے لئے مندرجہ ذیل طریق پر امام و رحمت ہے۔اوّل پیشگوئیوں کے ذریعہ سے۔دوم منہاج نبوت کو واضح کرکے۔سوم تعلیم کے مقابلہ کے لحاظ سے۔چہارم اصول شرائع کے سمجھانے میں مدد دے کر۔شَاهِدٌ مِّنْهُ میں بہائی ازم کا رد یہ بھی یاد رکھنا چاہیےکہ يَتْلُوْهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ میں آئندہ زمانہ میں ایک گواہ کی امید دلائی گئی ہے۔جو اس کی صداقت کو لوگوں سے منوائے گا۔نہ کسی ایسے شخص کی جو قرآن کریم کی تعلیم کو منسوخ کرے گا۔پس اس آیت میں بہائیوں کا رد ہے اور یہ ان پر حجت ہے کیونکہ گو وہ قرآن کریم کو سچا تسلیم کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ اس کا زمانہ اب گزر گیا ہے اور بہاء اللہ کو قرآن کریم کا موعود وجود قرار دیتے ہیں۔لیکن یہ آیت بتاتی ہے کہ موعود وجود قرآن کریم کو ہمیشہ کے لئے قابل عمل ثابت کرنے کے لئے اور اس کی صداقت کا گواہ بن کر آئے گا۔نہ کہ اسے منسوخ کرنے کے لئے۔پس ایسا کوئی شخص جو قرآن کریم کو منسوخ کرتا ہے قرآن کریم کا موعود نہیں ہوسکتا۔فَلَا تَكُ فِيْ مِرْيَةٍ قرآن کریم کے مخاطبوں کے لئے ہے فَلَا تَكُ فِيْ مِرْيَةٍ مِّنْهُ سے مطلق مخاطب مراد ہیں نہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم۔کیونکہ اس سے پہلے کہا جاچکا ہے کہ اُولٰٓىِٕكَ يُؤْمِنُوْنَ بِهٖ یعنی ایک ایسی