تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 232
ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور چونکہ قرآن کریم کا زمانہ ممتد ہونے والا تھا اور اس نے بعید ترین زمانہ کے لوگوں کو بھی ہدایت دینی تھی اس لئے فرمایا کہ وَيَتْلُوْهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ۔اس کی صداقت کو ثابت کرنے کے لئے جب اتنا عرصہ گذر جائے گا کہ پہلے دلائل قصوں کے رنگ میں رہ جائیں گے تو خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک نیاگواہ آجائے گا۔پھر فرمایا کہ علاوہ ان موجودہ دلائل کے گذشتہ نبیوں نے بھی اس کی خبر دی ہوئی ہے۔جیسے موسیٰ علیہ السلام کی کتاب ہے کہ وہ امام ہے یعنی لوگوں کو کھینچ کھینچ کر ادھر لاتی ہے اور رحمت ہے کہ قرآن کے ماننے کے لئے اس نے لوگوں کے واسطے آسانیاں کردی ہیں اُولٰٓىِٕكَ يُؤْمِنُوْنَ بِهٖ یعنی جن لوگوں کے لئے موسیٰ کی کتاب امام اور رحمت بن جاتی ہے وہ اس پر ایمان لاتے ہیں۔آنحضرت صلعم کے بعد فَتْرَۃ یہاں اس سوال کا جواب بھی آجاتا ہے جو کہتے ہیں کہ گزشتہ تیرہ سو سال میں کیوں کوئی مامور نہیں آیا کیونکہ آنے والے کے لئے شاہد کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔اور ظاہر ہے کہ شاہد کی ضرورت اسی وقت ہوتی ہے کہ جب کسی صداقت کے متعلق یہ خیال ہو کہ اب بھی یہ ماننے کے قابل ہے یا نہیں۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد اسی وقت کسی مامور کی ضرورت ہوسکتی تھی جب قرآن کریم کے متعلق یہ سوال پیدا ہوجاتا ہے کہ وہ ماننے کے قابل ہے یا نہیں اور اس کی صداقت قابل عمل ہے یا نہیں؟ اور پچھلے تیرہ سو سال میں کبھی بھی یہ سوال پیدا نہیں ہوا۔ہاں آج قرآن کے متعلق یہ سوال کئی گروہوں کی طرف سے پیدا ہورہا ہے۔پہلی شہادت (اوّل) خود مسلمانوں کے نزدیک اس کی بعض تعلیمیں اب قابل عمل نہیں رہیں۔ان میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔جیسے نماز ور وزہ کے احکام، چور کے ہاتھ کاٹنے، پردہ اور سود وغیرہ احکام کے متعلق لوگوں میں سوالات پیدا ہورہے ہیں۔دوسری شہادت (دوسرے) بہاء اللہ اور باب جیسے مدعیوں کے ماننے والوں کی طرف سے جو قرآن کریم کی شریعت کو منسوخ قرار دے کر نئی شریعت جاری کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔تیسری شہادت (تیسرے) یہ سوال اٹھایا جارہا ہے ان علوم جدیدہ کے محققین کی طرف سے جو تاریخی و عملی رنگ میں قرآن کریم پر حملہ آور ہیں۔یہ حالات اس زمانے سے پہلے کبھی پیدا نہیں ہوئے۔اس لئے اس زمانہ سے پہلے کسی شاہد کی بھی ضرورت نہ تھی۔شَاهِدٌ مِّنْهُ کے معنی شَاهِدٌ مِّنْهُ کے متعلق مفسرین نے اختلاف کیا ہے۔بعضوں نے شاہد سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اوراَفَمَنْ كَانَ سے مومن مراد لئے ہیں۔مگر یہ معنی بالکل خلاف عقل ہیں۔کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم