تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 234 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 234

جماعت پیدا ہوچکی ہے جو قرآن کریم اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاتی ہے۔پس یہ معنی نہایت ہی خلاف عقل ہوں گے کہ پچھلے بیان کردہ دلائل سے ایک جماعت تو مومنوں کی پیدا ہوچکی ہے لیکن جس پر وہ دلائل نازل ہوئے ہیں وہ ابھی شک میں ہی ہے۔پس یقیناً اس کے معنی یہ ہیں کہ اے مخاطب! اس میں شک نہ کیجیئو۔احزاب سے مراد مخالفین کی جماعتیں ہیں احزاب کا لفظ جو یہاں آیا ہے اس سے عام طور پر مراد انبیاء کی مخالف جماعتیں ہوتی ہیں۔چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ساری دنیا کے لئے تشریف لائے تھے اس لئے اس جگہ پر ساری دنیا کے مذاہب اور ساری دنیا کی قومیں مراد لی جائیں گی۔وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا١ؕ اُولٰٓىِٕكَ اوراس سے زیادہ کون ظالم (ہو سکتا) ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھے۔ایسے لوگ اپنے رب کے سامنے پیش کئے يُعْرَضُوْنَ عَلٰى رَبِّهِمْ وَ يَقُوْلُ الْاَشْهَادُ هٰؤُلَآءِ الَّذِيْنَ جائیں گے اور تمام گواہ کہیں گے (کہ) یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ باندھا سنو ! كَذَبُوْا عَلٰى رَبِّهِمْ١ۚ اَلَا لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِيْنَۙ۰۰۱۹ ان ظالموں پر اللہ (تعالیٰ) کی لعنت ہے۔تفسیر۔جھوٹے اور سچے مدعیان نبوت میں کوئی اشتباہ نہیں ہوتا کیا لطیف بات فرمائی کہ نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والا سب سے زیادہ ظالم ہوتا ہے۔اور جھوٹوں پر خدا تعالیٰ کی لعنت ہوتی ہے۔پس جھوٹے نبیوں اور سچوں میں فرق کرنا فی الحقیقت کچھ مشکل نہیں ہوتا۔جھوٹے نبی اپنی شکل سے پہچانے جاتے ہیں۔چنانچہ سچے انبیاء قیامت کے دن جھوٹے انبیاء کی طرف اشارہ کرکے کہیں گے کہ لوگو! دیکھو جھوٹے ایسے ہوتے ہیں تم لوگ اپنے خبث باطن کی وجہ سے ہمیں جھوٹا سمجھتے تھے۔