تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 220 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 220

َتَّقُوْنَ(یونس:۳۲)۔گویا دعویٰ کیا ہے کہ سب خزانے اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہیں۔خواہ وہ رزق کے ہوں یا قوائے طبیعہ کے یا قوائے عملیہ کے ہوں یا مختلف قوتوں کو ایک نظام میں لانے کے متعلق ہوں۔اور پھر اس کے بعد فرمایا قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَآىِٕكُمْ مَّنْ يَّهْدِيْۤ اِلَى الْحَقِّ١ؕ قُلِ اللّٰهُ يَهْدِيْ لِلْحَقِّ١ؕ اَفَمَنْ يَّهْدِيْۤ اِلَى الْحَقِّ اَحَقُّ اَنْ يُّتَّبَعَ اَمَّنْ لَّا يَهِدِّيْۤ اِلَّاۤ اَنْ يُّهْدٰى ١ۚ فَمَا لَكُمْ١۫ كَيْفَ تَحْكُمُوْنَ۔(یونس:۳۵،۳۶) اس میں بھی طاقت و قوت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔پھر سورۂ طور میں تحدی کے بعد فرماتا ہے اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ اَمْ هُمُ الْخٰلِقُوْنَ۔اَمْ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ١ۚ بَلْ لَّا يُوْقِنُوْنَ۔اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآىِٕنُ رَبِّكَ اَمْ هُمُ الْمُصَۜيْطِرُوْنَ(الطور:۳۵ تا ۳۸)۔یہاں پر بھی دولت اور حکومت اور طاقت و قدرت کا ذکر کیا گیا ہے۔سورۂ ہود کی زیر تفسیر آیت سے پہلے بھیلَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَيْهِ كَنْزٌ اَوْ جَآءَ مَعَهٗ مَلَكٌ(ہود:۱۳)آیا ہے۔سورۂ بنی اسرائیل میں تحدی کے بعد آیا ہےوَ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْاَرْضِ يَنْۢبُوْعًا۔اَوْ تَكُوْنَ لَكَ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِيْلٍ وَّ عِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الْاَنْهٰرَ خِلٰلَهَا تَفْجِيْرًا۔اَوْ تُسْقِطَ السَّمَآءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَيْنَا كِسَفًا اَوْ تَاْتِيَ بِاللّٰهِ وَ الْمَلٰٓىِٕكَةِ قَبِيْلًا۔اَوْ يَكُوْنَ لَكَ بَيْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ اَوْ تَرْقٰى فِي السَّمَآءِ(بنی اسرائیل:۹۱ تا ۹۴) اس جگہ بھی مال و دولت اور طاقت و قوت کا ہی ذکر ہے۔غرض چاروں جگہ پر ایک ہی قسم کا مطالبہ بیان ہوا ہے۔یا مطالبہ کا ذکر نہیں لیکن مطالبہ کا جواب دیا گیا ہے۔ان تحدیوں میں مطالبہ خزائن کے جواب میں قرآن کریم کو بطور خزانہ پیش کیا گیا ہے پس معلوم ہوتا ہے کہ خزانوں کے سوال اور مطالبۂ مثل میں کوئی گہرا تعلق ہے۔اور وہ یہی تعلق ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو خزانہ قرار دیا ہے اور مخالفین کے خزانہ کے مطالبہ کایہ جواب دیا ہے کہ اس کا اصل خزانہ قرآن کریم ہے اور لَوْلَا اُنْزِلَ عَلَیْہِ مَلَکٌ کا بھی یہی جواب دیا ہے کہ ملائکہ ظاہری مقابلوں کے لئے نہیں اترتے۔بلکہ کلام الٰہی لے کر اترا کرتے ہیں۔اور وہ اس پر نازل ہوچکا ہے پس یہ کہنا کہ اس پر مَلَک نہیں اترا یا یہ کہ اترنا چاہیےبے معنی قول ہے۔اور ایسی چیز کا مطالبہ ہے جو پہلے سے حاصل ہے۔پھر چونکہ ملائکہ کا اترنا یا روحانی خزانہ کا حصول بہ ظاہر ایک دعویٰ معلوم ہوتا ہے جس کا ثبوت نہیں اس کے لئے خود قرآن کریم کے بے مثل ہونے کو پیش کیا ہے کہ یہ اپنی صداقت کی آپ دلیل ہے اور اس کے اندر ایسے دلائل موجود ہیں جو اسے ایک لاثانی خزانہ اور منجانب اللہ کلام ثابت کرتے ہیں اور یہ جو فرق کیا ہے کہ جس جگہ زیادہ کلام کا مطالبہ ہے اس جگہ کفار کی طرف سے خزانوں یا ملک کا مطالبہ ہے اور جس جگہ تھوڑے کلام کی مثل کا مطالبہ ہے اس جگہ خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ سوال کیا گیا ہے کہ کیا یہ کفار خزانوں کے مالک اور