تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 219
بعد میں اس مطالبہ کو گرا کر دس سورتوں میں اور پھر دس سورتوں سے گرا کر ایک سورۃ میں محصور کر دیا گیا ہو۔دوسرے یہ کہ یہ کوئی واقعہ تو ہے نہیں کہ ہم اس سے عبرت پکڑیں بلکہ ایک چیلنج ہے جو ہم نے دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے۔اب ہم دنیا کے سامنے کیا پیش کریں۔آیا یہ کہ سارا قرآن لاؤ یا یہ کہ دس سورتیں لاؤ یا ایک سورۃ یا ایک بات لاؤ۔اگر ایک آیت کا مطالبہ کافی ہے تو ایک سورۃ کا مطالبہ کیوں کریں۔اور اگر ایک سورۃ کا لانا کافی ہوسکتا ہے تو دس سورتوں کا مطالبہ کیوں کریں اور اگر دس سورتوں کا لے آنا کافی ہے تو سارے قرآن کی مثل لانے کے لئے کیوں کہیں؟ اس تحدی والی سورتوں کے زمانہ نزول کا مختلف ہونا ثابت نہیں میرا اپنا یہ خیال ہے کہ اس میں ترتیب نکالنے کی ضرورت نہیں۔اول تو ان میں سے بعض سورتیں ایسے قریب قریب کے زمانہ کی نازل شدہ ہیں کہ ان کی صحیح ترتیب کا پتہ لگانا بہت مشکل ہے۔دوسرے قرآن کریم کی تنزیل اس طرح نہیں ہوئی کہ ایک وقت میں ایک ہی سورۃ نازل ہوئی ہو بلکہ قریب قریب نازل ہونے والی سورتیں بعض دفعہ ایک ہی وقت میں تین تین چار چار نازل ہوتی جاتی تھیں اور ان میں سے ایک کو پہلی کہنا اور دوسری کو بعد کی کہنا اس لحاظ سے تو گو درست ہو کہ ایک کی آخری آیت پہلے اور دوسری کی آخری آیت پیچھے نازل ہوئی ہو لیکن ایک کی سب آیتوں کے متعلق کہنا کہ یہ پہلے نازل ہوئی ہیں اور دوسری کی سب آیتوں کے متعلق یہ کہنا کہ یہ پیچھے نازل ہوئی ہیں درست نہیں ہوسکتا۔پس میرے نزدیک ان آیتوں میں ایسے مطالبات بھی ہیں جو ترتیب نزول کے حل کرنے کے محتاج نہیں ہیں اور سب کے سب ایک ہی وقت میں آج بھی اسی طرح پیش کئے جاسکتے ہیں جس طرح کہ زمانۂ نزول میں پیش کئے جاسکتے تھے۔اس تحدی کے ساتھ اکثر جگہ مال و دولت اور طاقت کا بھی ذکر آیا ہے پیشتر اس کے کہ میں ان مختلف تحدیوں کی تشریح کروں جو ان آیات میں مذکور ہیں۔میں اس عجیب بات کی طرف بھی توجہ پھرانی چاہتا ہوں کہ یہ چیلنج جس جس جگہ آئے ہیں ان کے ساتھ ہی مال و دولت اور طاقت و قدرت کا بھی ذکر آیا ہے۔سوائے سورۂ بقرہ کے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں کوئی نیا چیلنج نہیں ہے۔بلکہ سورۂ یونس کے چیلنج کو سورہ بقرہ کے مضامین کی ضرورت کے لحاظ سے دہرایا گیا ہے (سورہ یونس مکی ہے اور سورہ بقرہ مدنی ہے)اس لئے اس میں اس ذکر کو غیرضروری سمجھ کر چھوڑ دیا گیا ہے۔اس کے سوا باقی سب سورتوں کو دیکھ لو سب میں مال و دولت یا طاقت و قدرت کا ذکر ہے۔سورۂ یونس میں اس مطالبے سے چند آیات پہلے آیا ہے قُلْ مَنْ يَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اَمَّنْ يَّمْلِكُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ مَنْ يُّخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَ يُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَ مَنْ يُّدَبِّرُ الْاَمْرَ١ؕ فَسَيَقُوْلُوْنَ۠ اللّٰهُ١ۚ فَقُلْ اَفَلَا