تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 221 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 221

قانون قدرت کے متولی ہیں۔سو اس کی وجہ یہ ہے کہ جن مقامات پر پورے قرآن یا دس سورتوں کا مطالبہ ہے اس جگہ سوال ایسا ہے جو کفار کے ذہن میں آسکتا تھا اور موٹا تھا۔پس ان کے سوال کو پیش کرکے اس کا جواب دے دیا گیا ہے۔لیکن بعض پہلو قرآن کریم کے بے مثل ہونے کے ایسے رہ جاتے ہیں جن کے متعلق سوال کرنے کا بھی کفار کو خیال نہیں آسکتا تھا۔اگر ان کا بیان کرنا بھی کفار کے سوالات پر منحصر رکھا جاتا تو وہ پہلو پوشیدہ ہی رہتے۔اس لئے ان پہلوؤں کو قرآن کریم نے خود سوال پیدا کرکے بتا دیا اور اس طرح قرآن کریم کی تکمیل کے سب پہلوؤں کو روشن کر دیا۔فَتَبَارَکَ اللہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ۔ان تمام تحدیوں پر تفصیلی نظر اب میں تفصیل کے ساتھ ایک ایک مطالبہ کو الگ الگ لے کر بتاتا ہوں کہ کس طرح ان آیات میں قرآن کریم کی مختلف خوبیوں کے مقابلہ کی دعوت دی گئی ہے۔اور ہر جگہ کے مناسب حال زیادہ یا کم کلام کا مطالبہ کیا گیا ہے۔سورئہ بنی اسرائیل والی تحد ی سب سے بڑا مطالبہ سارے قرآن کی مثل لانے کا ہے اور یہ سورہ بنی اسرائیل میں ہے۔اس مطالبہ میں یہ شرط نہیں رکھی گئی کہ جس کلام کو منکر پیش کریں اسے خدا تعالیٰ کی طرف بھی منسوب کریں بلکہ جائز ہے کہ ان کا پیش کردہ کلام مفتریات میں سے نہ ہو۔اور ان کا صرف یہ دعویٰ ہو کہ گو ہم نے یہ کلام خود بنایا ہے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے لیکن یہ کلام قرآن کریم کی مثل یا اس سے بڑھ کر ہے۔چونکہ مثل کی حدبندی بھی ضروری تھی کہ وہ کلام کس امر میں مثل ہو اس لئے اس کی تشریح بھی خود کردی اور فرمایا کہ وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا لِلنَّاسِ فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١ٞ فَاَبٰۤى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا (بنی اسرائیل:۹۰) اس کلام میں ہر پہلو سے لوگوں کے فائدہ کے لئے ہر اک ضروری دینی امر پر روشنی ڈالی گئی ہے۔لیکن پھر بھی بہت سے لوگ اس کے انکار پر مصر ہیں۔یہی چیز ہے جس میں مثل کا مطالبہ کیا گیا ہے۔اگر فی الواقع وہ اس کلام کو انسانی کلام سمجھتے ہیں تو چار خوبیوں والا کلام پیش کریں۔جو اپنی خوبیوں میں قرآن کریم کے برابر ہو۔قرآن کریم کی چار صفات (۱)اس میں ہر ضروری دینی مسئلہ پر روشنی ڈالی گئی ہو۔یعنی اعتقادات، فلسفۂ اعتقادات، صفات باری اور فلسفۂ ظہور صفات باری، علم کلام عبادات، فلسفۂ عبادات، علم اخلاق،فلسفۂ اخلاق، معاملات، فلسفۂ معاملات، مدنیت، اقتصادیات، سیاسیات کا جو حصہ مذہب سے تعلق رکھتا ہے اور اس کا فلسفہ معاد اور اس کے متعلق تمام امور وغیرہ وغیرہ سب امور ضروریہ پر اس میں روشنی ڈالی گئی ہو۔(۲) وہ بحث جو ان امور کے متعلق کی گئی ہو سیرکن ہو نہ صرف وسعت کے رو سے احاطہ ہو یعنی سب علوم