تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 180 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 180

وَ لَوْ جَآءَتْهُمْ كُلُّ اٰيَةٍ حَتّٰى يَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِيْمَ۰۰۹۸ جب تک کہ دردناک عذاب( نہ) دیکھ لیں۔گو ان کے پاس تمام( قسم کے) نشان آچکے ہیں۔تفسیر۔اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ سچائی سے فائدہ اٹھانے کا ارادہ نہیں رکھتے انہیں آیات نفع نہیں دیا کرتیں۔اور بڑے سے بڑا معجزہ بھی ان کی نظروں میں دھوکا اور فریب ہوتا ہے۔پس معاندین کا خواہ وہ کتنے بڑے عالم کیوں نہ ہوں یہ کہنا کہ فلاں شخص نے معجزہ نہیں دکھایا۔کوئی دلیل نہیں ہوتا۔ہر شخص کو اپنے لئے خود غور کرکے فیصلہ کرنا چاہیے اور معجزات کو سنت انبیاء پر پرکھنا چاہیے۔تاکہ حق سے محروم نہ رہ جائے۔فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْيَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِيْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ اور یونس کی قوم کے سوا کیوں کوئی (اور ایسی) بستی نہ ہوئی جو (سب کی سب) ایمان لاتی۔تو اس کا ایمان لانا اسے نفع يُوْنُسَ١ؕ لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي دیتا جب وہ( یعنی یونس کی قوم کے لوگ) ایمان لائے تو ہم نے ا ن( پر) سے اس ورلی زندگی میں( بھی) رسوائی کا الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِيْنٍ۰۰۹۹ عذاب دور کر دیا اور انہیں ایک وقت تک (ہر طرح کا) سامان عطا کیا۔حلّ لُغَات۔قَرْیَۃٌ۔اَلْقَرْیَۃُ اَلْمِصْرُ الْجَامِعُ بڑا شہر۔کُلُّ مَکَانٍ اِتَّصَلَتْ بِہٖ الْاَبْنِیَۃُ وَاتُّخِذَ قَرَارًا ہر آبادی کی جگہ خواہ شہر ہو یا گاؤں۔جَمْعُ النَّاسِ۔لوگوں کی جماعت (اقرب) خِزْیٌ اَلْخِزْیُ اَلْھَوَانُ ذلت۔ذلیل و حقیر ہونا۔اَلْعِقَابُ۔سزا۔اَلْبُعْدُ دوری۔اَلنَّدَامَۃُ شرمندگی پچتانا۔وَاَصْلُ الْخِزْیِ ذُلّ یُسْتَحْیٰی مِنْہُ اس کے اصل معنی ایسی ذلت کے ہیں جو لوگوں کے سامنے شرمندگی کا موجب ہو۔(اقرب) حِیْنَ الْحِیْنُ وَقْتٌ مُبْھِمٌ یَصْلُحُ لِجَمِیْعِ الْاَزْمَانِ طَالَ اَوْقَصُرَ۔مطلق وقت خواہ بہت ہو خواہ تھوڑا۔وَقِیْلَ الدَّھْرُ۔بعض محققین لغت نے اس کے معنی زمانہ کے بتائے ہیں۔اَلْمُدَّۃُ۔مدت (اقرب) تفسیر۔کاش ہر ایک نبی کی قوم یونس ؑ کی قوم کا نمونہ دکھاتی غور کرنے والے کے لئے اس