تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 179 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 179

بعض لوگ غلطی سے یہ خیال کرتے ہیں کہ شک کرنے والے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی ہیں۔اور جن سے پوچھنے کا حکم ہے وہ یہود و نصاریٰ ہیں۔مگر جیسا کہ پہلے ثابت کیا جاچکا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے مراد نہیں ہوسکتے۔اور نہ آپ کے صحابہ۔کیونکہ ان کی نسبت قرآن کریم میں دوسری جگہ آتا ہے کہ قُلْ هٰذِهٖ سَبِيْلِيْۤ اَدْعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ١ؔ۫ عَلٰى بَصِيْرَةٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِيْ ( یوسف :۱۰۹) تو کہہ دے کہ میں اور میرے متبع صرف گمان سے اس مذہب کو نہیں مان رہے بلکہ ہم نے مشاہدہ سے قرآن کریم کی سچائی کو معلوم کرلیا ہے۔اور یہ بات ظاہر ہے کہ جو لوگ کسی امر کو مشاہدہ سے تسلیم کریں وہ اس کے متعلق شک و شبہ میں مبتلا نہیں ہوسکتے۔اگلی آیت بھی بتاتی ہے کہ اس جگہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مخاطب نہیں ہوسکتے۔وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ فَتَكُوْنَ مِنَ اور تو ان (لوگوں) میں سے ہرگز نہ بن جنہوں نے اللہ (تعالیٰ) کے نشانوں کو جھٹلا دیا ہے ورنہ تو نقصان اٹھانے الْخٰسِرِيْنَ۰۰۹۶اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ۰۰۹۷ والوں میں سے ہو جائے گا۔جن لوگوں پر تیرے رب کی (طرف سے ہلاکت کی) بات واجب ہو چکی ہے وہ ہرگز ایمان نہیں لائیں گے۔حلّ لُغَات۔کَلِمَۃٌ۔اَلْکَلِمَۃُ اللَّفْظَۃُ منہ سے بولا ہوا مفرد لفظ۔ہر وہ بات جو انسان بولے۔خواہ مفرد ہو۔خواہ مرکب۔وَالْعَشْرُ کَلِمَاتُ وَصَایَا اللہِ الْعَشْرُ۔عشر کلمات اللہ تعالیٰ کے دس حکموں کو کہتے ہیں۔الْخُطْبَۃُ وَالْقَصِیْدَۃُ۔کبھی خطبہ اور قصیدہ کو بھی کلمہ کہتے ہیں۔(اقرب) تفسیر۔اس جگہ کلمہ سے مراد انذار کی بات کے ہیں۔یعنی جو لوگ انذار کے مستحق ہوگئے ہیں اور اس سے بچنے کی انہوں نے کوشش نہیں کی وہ ایمان نہیں لائیں گے۔اس آیت سے ثابت ہے کہ صرف ان لوگوں کے ایمان نہ لانے کی پیشگوئی تھی جنہوں نے انذار سے فائدہ نہیں اٹھایا تھا۔نہ کہ سب کفار کے متعلق۔