تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 163
جو کچھ تم نے پھینکنا ہے پھینکو۔یعنی جو کچھ تمہیں کرنا ہے کرو۔میں تو اسے فضول سمجھتا ہوں۔گویا اظہار استغناء فرمارہے ہیں۔لوگ اس آیت کے یہ معنی سمجھتے ہیں کہ حضرت موسیٰ بھی ان کے مقابلہ کے لئے تیار ہو گئے۔حالانکہ یہ بات نہیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کو خوب معلوم تھا کہ وہ جادوگر ہیں اور جو کچھ کریں گے وہ فضول ہی ہوگا۔انہوں نے تو استغناء کا اظہار کیا ہے۔موسیٰ ؑ نے فوراً ہی انکار غالباً اس لئے نہیں کیا کہ انہوں نے سوچا کہ جب وہ مقابل پر آئیں گے تو حقیقت خود ہی آشکار ہو جائے گی۔اور اسی وقت کہنا مناسب بھی ہوگا۔چنانچہ وقت پر یہ کہہ دیا کہ مَاجِئْتُمْ بِہِ السِّحْرُ۔فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا قَالَ مُوْسٰى مَا جِئْتُمْ بِهِ١ۙ السِّحْرُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ اس پر جب انہوں نے (جو کچھ ڈالنا تھا )ڈال دیا تو موسیٰ ؑنے کہا( کہ) جو کچھ تم( لوگوں) نے پیش کیا ہے( پورا) پورا سَيُبْطِلُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِيْنَ۰۰۸۲ فریب ہے (اور)اللہ (تعالیٰ) یقیناًیقیناً اسے مٹادے گا اللہ (تعالیٰ) فساد کر نے والوں کی کارروائی کو درست ہرگز نہیں (کیا )کرتا۔حلّ لُغَات۔اَصْلَحَہٗ اَصْلَحَہٗ ضِدُّ اَفْسَدَہٗ ٹھیک کر دیا۔درست کر دیا۔مناسب حال کر دیا۔بَعْدَ فَسَادِہٖ اَقَامَہٗ خرابی کو دور کرکے درست کر دیا۔بَیْنَ الْقَوْمِ وَفَّقَ صلح کروائی۔اِلَیْہِ اَحْسَنَ احسان کیا۔اِلَی دَآبَّتِہٖ اَحْسَنَ اِلَیْہَاوَ تَعَہَّدَھَا۔اسے اچھی طرح سے رکھا اور اس کا پورا خیال رکھا۔اَصْلَحَ اللہُ لَہٗ فِی ذُرِّیَتِہٖ وَمَالِہٖ۔اللہ تعالیٰ نے اس کو اولاد اور مال کی بہتری اور درست حالی نصیب کی۔(اقرب) تفسیر۔مفسدوں کے اعمال کا نتیجہ جھوٹ اور فریب جب صداقت کے مقابلہ پر آتا ہے تو اس کا پول کھل جاتا ہے اور مفسدوں کے اعمال فساد ہی پیدا کرتے ہیں۔یہ نہیں ہوسکتا ہے کہ کرے تو انسان مفسدوں والے اعمال اور نتیجہ اصلاح نکلے۔تو بتایا کہ وہ مفسدین کے ارادوں اور ان کے عملوں کو آپس میں مناسب حال نہیں ہونے دیتا۔بلکہ وہ اپنی حالت بدلتے رہتے ہیں۔اور اس وجہ سے انہیں کامیابی بھی نصیب نہیں ہوتی۔