تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 164 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 164

وَ يُحِقُّ اللّٰهُ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَؒ۰۰۸۳ اور اللہ( تعالیٰ) اپنے کلمات کے ذریعہ سے حق کو قائم کرتا ہے۔گو مجرم( لوگ اس بات کو) ناپسند کریں۔تفسیر۔کلمات میں بشارتیں اور انذار دونوں شامل ہیں۔ان دونوں کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ حق کو ثابت کیا کرتا ہے۔حق کو باطل کی تائید کی ضرورت نہیں ہوتی حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس جگہ ایک عجیب لطیفہ بیان فرمایا ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے دین کی اشاعت کے لئے جھوٹ اور فریب کا محتاج نہیں۔ہر چیز اس کے حکم کے تابع ہے۔وہ اپنے حکم سے دین کی اشاعت کرتا ہے نہ کہ بندے کے فریب سے۔اس میں یہ اخلاقی نکتہ ہے کہ مقصد کی سچائی ہمیں اس بات کا مجاز نہیں بنادیتی کہ ہم اس کے حصول کے لئے جھوٹے ذرائع اختیار کریں۔مقصد خواہ کتنا ہی اعلیٰ ہو ذرائع حصول بھی اعلیٰ ہونے چاہئیں۔افسوس ہے کہ اس زمانہ میں بہت سے لوگ اس صداقت سے نابلد ہورہے ہیں۔اور عام طور پر دنیا میں یہ وباء پھیل رہی ہے کہ سچائی کی خاطر جھوٹ بولنا جائز ہے۔حالانکہ وہ سچائی ہی کیا جو جھوٹ کے بغیر غالب نہ آسکے! فَمَاۤ اٰمَنَ لِمُوْسٰۤى اِلَّا ذُرِّيَّةٌ مِّنْ قَوْمِهٖ عَلٰى خَوْفٍ مِّنْ پھر( بھی) سوائے اس کی قوم( ہی) کےچند بچوں کے کسی نے (بھی )فرعون (کے ڈر سے) اور (نیز) اپنی قوم کے فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡىِٕهِمْ اَنْ يَّفْتِنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ بڑے لوگوں کے خوف سے کہ وہ( خود ہی یا دوسروں کےذریعہ سے )انہیں(کسی) مصیبت میں( نہ) ڈال دے فِي الْاَرْضِ١ۚ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الْمُسْرِفِيْنَ۰۰۸۴ موسیٰ کی فرمانبرداری نہ( اختیار)کی اور فرعون یقینا ًیقیناً زمین میں چیرہ دستی کرنے والاتھا اور یقینا ً یقیناً وہ حد سے بڑھ جانے والوں میں سے تھا۔حلّ لُغَات۔اٰمَنَ اٰمَنَہٗ اٰمَنَ۔امن بخشا۔بچایا اٰمَنَ بِہٖ صَدَّقَہٗ وَوَثَقَ بِہٖ۔ایمان لایا۔تصدیق کی