تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 159
کرتے ہیں ہم انہیں ہدایت نہیں دیتے نہ یہ کہ ہم اپنی طرف سے انہیں ہدایت سے روکتے ہیں۔پس وہ مہر اصل میں بندہ کی طرف سے ہوتی ہے گو بوجہ اس کے کہ نتائج خدا تعالیٰ مرتب فرماتا ہے۔اسے منسوب خدا تعالیٰ کی طرف کر دیا جاتا ہے۔ایک دوسری جگہ فرماتا ہے اَمْ عَلٰى قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا (محمد :۲۵) کہ جو تالے کفار کے دلوں پر لگے ہوئے ہیں وہ خود ان کے دلوں سے ہی پیدا شدہ ہیں۔ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰى وَ هٰرُوْنَ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون کو اپنے نشان دے کر فرعون اور اس کی قوم کے بڑے لوگوں کی طرف بھیجا۔مَلَاۡىِٕهٖ بِاٰيٰتِنَا فَاسْتَكْبَرُوْا۠ وَ كَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِيْنَ۰۰۷۶ تو انہوں نے تکبر (اختیار) کیا اور وہ (پہلے ہی سے) ایک مجرم قوم تھے۔حلّ لُغَات۔اَلْمَلَأُ۔اَلْمَلَأُ مَلَأَ یَمْلَأُ سے نکلا ہے۔جس کے معنی بھر دینے کے ہوتے ہیں۔اَلْمَلَأُ کے معنی ہیں۔اَلْاَشْرَافُ۔وَسُمُّوْالاَنَّھُمْ یَمْلَئُوْنَ الْعُیُوْنَ اُبَّھَةً وَالصُّدُوْرَ ھَیْبَۃً۔معزز لوگ اور ان کا نام مَلَأٌ اس لئے رکھا گیا ہے کہ وہ آنکھوں کو عظمت سے اور سینوں کو ہیبت سے بھر دیتے ہیں۔اَلْجَمَاعَۃُ جماعت۔اَلتَشَاوُرُ باہم مشورہ کرنا۔چنانچہ کہتے ہیں مَاکَانَ ھَذَاالْاَمْرُ عَنْ مَلَأ ٍمِّنَّا۔اَیْ تَشَاوُرٍ۔ہمارے مشورہ سے یہ بات نہیں ہوئی۔(اقرب )اِسْتَکْبَرَ الرَّجُلُ کَانَ ذَاکِبْرِیَاءَ۔بڑا بنا۔مغرور ہوا۔(اقرب) تفسیر۔لوگوں کے انکار انبیاء کے دو باعث جب بھی کوئی نبی دنیا میں آتا ہے تو لوگ دو وجہ سے اس کا انکار کرتے ہیں۔یا تو اس کے دعویٰ کو بڑا خیال کرتے ہیں اور یا اپنے آپ کو اس امر سے بالا سمجھتے ہیں کہ اس کی بات مان لیں۔یہی حال حضرت موسیٰ ؑ کا ہوا۔بعض نے یہ بات ناممکن سمجھی کہ خدا تعالیٰ بندہ سے کلام کرے اور بعض نے یہ بات خلاف شان سمجھی۔کہ موسیٰ ؑ جیسے بے کس انسان کی اطاعت کریں۔كَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِيْنَ کے دو معنی وَكَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِيْنَ کے دو معنی ہوسکتے ہیں (۱) وہ پہلے ہی سے مجرم تھے۔اس لئے حضرت موسیٰ کا انکار کر دیا۔ان معنوں کے رو سے اِسْتَکْبَرُوْا کی وجہ معلوم ہوجاتی ہے۔کہ اس لئے نہ مانا کہ اس طرح ان کی آزادی میں فرق آتا تھا۔اور برے کاموں میں روک پیدا ہوتی تھی۔(۲) دوسرے معنی اس کے یہ ہوسکتے ہیں کہ وہ انکار کرکے مجرم بن گئے۔صداقت کے انکار کے ساتھ ان دونوں معنوں کا تعلق ہے۔