تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 158 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 158

جانشین اور قائم مقام۔اَلسُّلْطَانُ الْاَعْظَمُ۔حاکم اعلیٰ۔شاہنشاہ۔اَلْاِمَامُ الَّذِیْ لَیْسَ فَوْقَہٗ اِمَامٌ وہ پیشرو اور حاکم جس کے اوپر اور کوئی حاکم اور پیشرو نہ ہو۔(اقرب) تفسیر۔آخری حصہ آیت سے یہ بتایا ہے کہ ان لوگوں کی سزا میں کہ جن کو پہلے متنبہ نہ کیا گیا ہو اور ان لوگوں کی سزا میں جنہیں متنبہ کر دیا گیا ہو فرق ہوتا ہے۔تبھی تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دیکھو کہ جن لوگوں کو متنبہ کر دیا گیا تھا ان کی سزا کیسی تھی۔یعنی عام لوگوں کی سزا اور ان لوگوں کی سزا میں ایک بین فرق تھا۔اس آیت میں انبیاء اللہ اور رسولوں کے درجہ کی طرف ہمیں توجہ دلائی ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے والے وجود ایسے نہیں ہوتے کہ ان کی بات کی پرواہ نہ کی جائے۔ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِمْ فَجَآءُوْهُمْ پھر اس کے بعد ہم نے اور( بھی کئی) رسول اپنی (اپنی) قوم کی طرف بھیجے اور وہ ان کے پاس روشن نشانات لے کر بِالْبَيِّنٰتِ فَمَا كَانُوْا لِيُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا بِهٖ مِنْ قَبْلُ١ؕ آئے تو وہ (لوگ) اس سبب سے کہ( اس سے) پہلے اس (صداقت) کو جھٹلا چکے تھے (اس پر) ایمان لانے والے كَذٰلِكَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِ الْمُعْتَدِيْنَ۰۰۷۵ نہ بنے۔ہم حد سےبڑھنے والوں کے دلوں پر اسی طرح سے مہر لگایا کرتے ہیں۔حلّ لُغَات۔طَبَعَ طَبَعَ الشَّیْءَ صَوَّرَہٗ بِصُوْرَۃٍ مَّا اس کی کوئی صورت یا شکل بنائی۔عَلَیْہِ خَتَمَ مہر لگائی۔اَللہُ الْخَلْقَ خَلَقَہُمْ پیدا کیا۔اَلسَّیْفَ عَمِلَہٗ وَصَاغُہٗ بنایا۔اَلدِّرْھَمُ نَقَشَہٗ وَسَکَّہٗ مضروب کیا۔(اقرب) تفسیر۔دلوں پر مہر لگانے کے معنی اس آیت میں مہر لگانے کی حقیقت کو اچھی طرح کھول دیا ہے اور دلوں پر مہر لگانے پر دشمنانِ اسلام جو اعتراض کیا کرتے ہیں اس کا بوضاحت جواب دے دیا گیا ہے۔فرماتا ہے کہ چونکہ کفار پہلے انکار کر چکے تھے اس واسطے ایمان لانا ان کے لئے مشکل ہو گیا۔اور اپنے اقوال اور اعمال کی پچ کی وجہ سے اپنی جگہ سے ہلنے سے انہوں نے انکار کر دیا۔پھر فرماتا ہے كَذٰلِكَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِ الْمُعْتَدِيْنَ۔ہم جو کہا کرتے ہیں کہ حدود کو توڑنے والوں کے دلوں پر ہم نے مہر لگادی ہے اس کا یہی مطلب ہوا کرتا ہے کہ چونکہ وہ ضد