تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 153 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 153

اللہ تعالیٰ پیش فرماتا ہے کہ اس واقعہ پر غور کرکے دیکھ لو۔کیا نوح کے دشمنوں نے دشمنی میں کمی کی تھی۔مگر باوجود اس کے کہ انہوں نے پورا زور لگایا اللہ تعالیٰ نے ان کو فوراً تباہ نہیں کیا۔بلکہ ایک لمبے عرصہ تک ان کو ڈھیل دی۔لیکن جب شرارت حد تک پہنچ گئی اور جو ایمان لانے والے تھے ایمان لاچکے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمنوں کو ہلاک کردیا۔یَتْلُوْا۔تِلَاوَۃٌ میں سے نکلا ہے۔تَلَاوَۃٌ پڑھ کر سنانے کو کہتے ہیں۔یعنی لوگوں کی روایات کی طرف مت جاؤ بلکہ وہی سناؤ جو اس کتاب میں اترا ہے۔اجمعوا کے دو معنی اس کے مفعول کے مختلف افراد کے مطابق عربی زبان کا قاعدہ ہے کہ بعض دفعہ فعل ایک ہی لایا جاتا ہے اور اس کے ساتھ دو اسم استعمال کرکے ان ہر دو اسموں کے مناسب حال اس کے دو معنی لئے جاتے ہیں۔ا س جگہ اَجْمِعُوْا شُرَکَاءَکُمْ کے یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ ان کو جمع کرلو۔اور یہ بھی کہ تم اپنے معاملہ کو جمع کرلو اور اپنے شرکاء کو بلالو۔اور اُدْعُوْا کا فعل حذف کر دیا گیا ہے۔ایک شاعر کہتا ہے یَالَیْتَ زَوْجَکِ قَدْغَدَا مُتَقَلِّدًا سَیْفًا وَرُمْحَا (تاج العروس،مادہ جمع) جس میں سَیف (تلوار) اور رُمْحٌ (نیزہ) ہر دو کے لئے تَقَلُّد کا لفظ لایا گیا ہے۔حالانکہ یہ سیف کے لئے مخصوص ہوتا ہے اور رمح کے لئے تقلد کا نہیں بلکہ اعتقال کا لفظ بولا جاتا ہے۔تین مثالوں سے مقصود تین قسم کے معاملہ کی طرف اشارہ ہے اس سورۃ میں تین مثالیں دی ہیں۔ایک حضرت نوح ؑ کی۔دوسری حضرت موسیٰ ؑ کی اور تیسری حضرت یونس ؑ کی۔حضرت نوح کی مثال کامل تباہی کی ہے۔اور حضرت موسیٰ ؑ کی مثال ایک قوم کی تباہی اور دوسری کی نجات کی۔اور حضرت یونسؑ کی مثال کامل طور سے بچا لینے کی ہے۔اللہ تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ تین مثالیں بیان فرما کر بتاتا ہے کہ ہم دنیا میں تین قسم کے معاملات کیا کرتے ہیں۔حضرت نوح ؑ کی قوم کی خصوصیت(۱) کسی نبی کے ذریعہ سے مخالف قوم کو بالکل تباہ کردیتے ہیں۔جیسے حضرت نوح کی قوم ہے۔ان کے زمانہ میں بجز چند نفوس کے باقی تمام قوم ہلاک کر دی گئی۔حضرت موسیٰ ؑکی قوم کی خصوصیت اور کسی نبی کے زمانہ میں اس کے مخاطبین میں سے ایک حصے کو بچا لیتے اور دوسرے کو تباہ کر دیتے ہیں۔جیسے حضرت موسیٰ ؑ کے مخاطبین کا حال ہوا کہ بنی اسرائیل اکثر ان پر ایمان لے آئے مگر فرعون اور اس کی قوم تبہ ہو گئی۔حضرت یونسؑ کی قوم کی خصوصیت اور اس کے نمونہ سے فائدہ اٹھانے کی تحریص اور کسی نبی کے