تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 152 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 152

نَبَاَ نُوْحٍ١ۘ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖ يٰقَوْمِ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَيْكُمْ اس نے (بھی )اپنی قوم سے کہا تھا( کہ) اے میری قوم اگر تمہیں میرا( خداداد) مرتبہ اور اللہ( تعالیٰ) کے نشانوں مَّقَامِيْ وَ تَذْكِيْرِيْ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ فَعَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْتُ کے ذریعہ سے میرا تمہیں( تمہارا فرض) یاد دلانا ناگوار( گزرتا) ہے تو تم اپنے (تجویز کردہ) شریکوں سمیت اپنی فَاَجْمِعُوْۤا اَمْرَكُمْ وَ شُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُنْ اَمْرُكُمْ بات (کے متعلق سب پختگی کے سامانوں) کو جمع کر لو( اور) نیز چاہیے کہ تمہاری بات تم پر( کسی پہلو سے) مشتبہ نہ عَلَيْكُمْ غُمَّةً ثُمَّ اقْضُوْۤا اِلَيَّ وَ لَا تُنْظِرُوْنِ۰۰۷۲ رہے۔پھر اسے مجھ پر نافذ کردو اور مجھے( کوئی موقع اور) مہلت نہ دو۔حلّ لُغَات۔کَبُرَ کَبُرَعَظُمَ وَثَقُلَ بھاری اور گراں ہوا۔کَبُرَ۔عَظُمَ وَجَسُمَ بڑا اور جسیم ہوا۔(اقرب) عَلَیْہِ الْاَمْرُ شَقَّ وَاشْتَدَّ وَثَقُلَ گراں اور شاق گذرا (منجد) اَلْمَقَامُ۔اَلْمَقَامُ اَلْاِقَامَۃُ رہنا بودوباش کرنا۔مَوْضِعُ الْاِقَامَۃِ رہنے کی جگہ۔زَمَانُ الْاِقَامَۃِ رہنے کا زمانہ یا وقت۔مَوْضِعُ الْقَدَمَیْنِ۔جہاں پاؤں رکھے جائیں۔اَلْمَنْزِلَۃُ مرتبہ و حیثیت (اقرب) اَجْمَعَ اَجْمِعُوْافراء کا قول ہے۔اَ جْمَعَ الْاَمْرَ۔نَوَاہُ وَعَزَمَ عَلَیْہِ۔ارادہ کیا۔اور پختہ نیت کرلی۔اَجْمَعَ الْقَوْمُ عَلَی الْاَمْرِ۔اِتَّفَقُوْا عَلَیْہِ اتفاق کرلیا۔اَجْمَعَ اَمْرَہٗ بَعْدَ تَفَرُّقِہٖ جَعَلَہٗ جَمِیْعًا پراگندگی کے بعد جمع کرلیا۔اَجْمَعَ الْاَمْرَوَ عَلَی الْاَمْرِ۔عَزَمَ۔پختہ ارادہ کرلیا (اقرب) غُمَّةٌ غُمَّۃٌ اَمْرٌ غُمَّۃٌ اَےْ مُبْہَمٌ مُلْتَبِسٌ۔مبہم اور مشتبہ امر (اقرب) قَضٰی اِلَیْہِ اِقْضُوْا اِلَیکہتے ہیں۔قَضَیْنَا اِلَیْہِ ذٰلِکَ الْاَمْرَ۔اَبْلَغْنَاہُ اِیَّاہُ اس تک پہنچا دیا۔(اقرب) تفسیر۔چونکہ سورۂ ہود میں انبیاء کا ذکر زیادہ تفصیل کے ساتھ آتا ہے اس لئے میں وہیں حضرت نوح کا ذکر کروں گا۔ا س جگہ اس آیت کی تشریح پر اکتفا کرتا ہوں میں بتا چکا ہوں کہ الرٰ کی سورتوں میں تاریخی واقعات پر زیادہ بحث ہے۔اور انہیں سے زیادہ تر استدلال کیا گیا ہے۔چنانچہ عقلی بحث کے بعد حضرت نوح کے واقعہ کو