تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 154 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 154

زمانہ میں کلی طور پر بچا لیا کرتے ہیں۔جیسے حضرت یونسؑ کی قوم جو ساری کی ساری بچا لی گئی تھی ان مثالوں کو بیان فرماتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفین کو تحریص دلائی ہے کہ کیوں تم یونسؑ کی سی قوم نہیں بن جاتے۔موسیٰ ؑ اور نوح کی قوموں کی طرح کیوں تباہی چاہتے ہو؟ ان تمام خصوصیات کا آنحضرت ؐ کی قوم میں پایا جانا عا م طور پر لوگ نبیوں کے واقعات کو قرآن مجید میں محض قصہ سمجھتے ہیں۔مگر ان تینوں واقعات کے نظام اور ان کی ترتیب پر غور کرو۔کیا یہ محض قصہ کے طور پر ذکر کئے گئے ہیں۔کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مختلف زمانوں میں اور مختلف جگہوں میں یہی واقعات پیش نہیں آئے۔کیا آپ مکہ میں نوح، مدینہ میں موسیٰ اور دوبارہ ورود مکہ میں یونس کے مثیل ثابت نہیں ہوئے ہیں؟ یہ قصے نہیں بلکہ پیشگوئیاں ہیں۔نبی کا مقام اور اس کی تذکیر اس کی قوم پر گراں گزرنے کی وجہ مَقَامِیْ وَتَذْکِیْرِیْ میں حضرت نوح ؑ نے بتلایا ہے کہ میری دو باتیں ہی تمہیں بری لگ سکتی ہیں۔اول میرا نبی ہونا جس سے تم کو یہ خیال ہوگا کہ یہ ہم پر کیوں حاکم ہو گیا؟ کیونکہ نبی کو بھی ایک قسم کی حکومت تو حاصل ہوتی ہی ہے۔دوم میری تعلیم۔کیونکہ یہ تعلیم تمہارے طرز کے خلاف ہے۔حضرت نوح کا جواب فرماتے ہیں کہ اگر یہ دو باتیں تمہیں بری لگتی ہیں تو میں تمہیں ان دونوں کے متعلق یقین دلاتا ہوں کہ انہیں میرے نفس نے خود پیدا نہیں کیا۔بلکہ یہ سب اللہ تعالیٰ کا فعل ہے اس میں میری اپنی کوئی غرض نہیں ہے۔میں نے تو اپنے سب کام اللہ کے سپرد کردیئے ہیں۔یعنی میری اپنی خواہش کوئی نہیں۔جو کچھ ہوتا ہے خدا کی طرف سے ہوتا ہے۔اس لئے یقین رکھو کہ تمہارا مقابلہ مجھ سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ سے ہے۔لفظ مقام کے دوسرے معنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہمَقَامِیْ وَتَذْکِیْرِیْ کو اکٹھا سمجھا جائے۔اور یہ معنی کئے جائیں کہ اگر میرا کھڑے ہوکر وعظ کرنا تم کو برا معلوم ہوتا ہے تو سمجھ لو کہ میں تو اس طریق کو نہیں چھوڑ سکتا۔کیونکہ یہ میرا فرض ہے۔اور اگر اس کے نتیجہ میں تم مجھ سے دشمنی کروگے تو بے شک کرو۔میں خدا تعالیٰ پر توکل کرتا ہوں۔کھڑے ہو کر تذکیر کر نا انبیاء کی سنت ہے ان معنوں سے معلوم ہوتا ہے کہ قدیم سے انبیاء کی یہ سنت ہے کہ وہ کھڑے ہوکر وعظ فرمایا کرتے تھے۔ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی خطبہ کھڑے ہوکر ہی فرماتے تھے(بخاری کتاب الجمعۃ باب الخطبۃ قائمًا)۔حضرت مسیح موعود بھی سوائے بیماری کے کھڑے ہوکر ہی عموماً لیکچر دیاکرتے تھے۔