تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 151
صفت مالکیت تیسری دلیل یہ دی کہ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ بعض دفعہ انسان شروع میں کوئی چیز بنا لیتا ہے لیکن بعد میں وہ اس کی طاقت سے نکل جاتی ہے۔اور اسے سنبھال نہیں سکتا۔لیکن فرمایا کہ اس کو نظام قائم کرنے کے لئے بھی کسی کی مدد کی ضرورت نہیں۔شرک کی کوئی دلیل کسی کے پاس نہیں چوتھی دلیل شرک کے رد میں یہ دی کہ اِنْ عِنْدَکُمْ مِّنْ سُلْطان بِہٰذا۔کیا تمہارے پاس شرک کی تائید میں کوئی دلیل ہے ہرگز نہیں۔پس اس کا بے دلیل ہونا ثبوت ہے اس بات کا کہ خدا تعالیٰ کا کوئی بیٹا نہیں۔یہ عجیب بات ہے کہ باوجود ہر قسم کا زور مارنے کے شرک کی کوئی دلیل پیدا نہیں ہوسکی۔اصولی اور فلسفیانہ بحثیں مشرک کرتے رہتے ہیں۔لیکن جن چیزوں کو شریک قرار دیتے ہیں ان کی تائید میں کوئی دلیل پیش نہیں کرسکتے۔شرک جہالت کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ والی دلیل کو سورۂ رعد میں اَمْ تُنَبِّـُٔوْنَهٗ۠ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِي الْاَرْضِ(الرعد:۳۴) کے الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔مگر یہاں پراَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ کے الفاظ میں بیان فرمایا اس اختلاف الفاظ کی وجہ یہ ہے کہ اس سورۃ میں تو اس طرف اشارہ کیا ہے کہ شرک جہالت کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے نہ کہ کسی دلیل کی وجہ سے۔اور سورہ رعد میں یہ بتایا ہے کہ شرک کے عقیدہ سے اللہ تعالیٰ پر جہالت کا الزام آتا ہے کہ گویا وہ تو معبودوں کے وجود کا اعلان نہ کرسکا۔ان لوگوں نے اپنے علم کے زور سے ان کے خدا ہونے کا پتہ لگا لیا۔قُلْ اِنَّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُوْنَؕ۰۰۷۰ تو (ان سے) کہہ (کہ )جو (لوگ) اللہ( تعالیٰ) پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ ہرگز کامیاب نہیں ہوتے۔مَتَاعٌ فِي الدُّنْيَا ثُمَّ اِلَيْنَامَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِيْقُهُمُ (ان کا حصہ) دنیا میں( صرف چند روز کے لئے) کچھ سامان ہے پھر ہماری طرف انہیں لوٹنا ہوگا پھر اس وجہ سے کہ وہ الْعَذَابَ الشَّدِيْدَ بِمَا كَانُوْا يَكْفُرُوْنَؒ۰۰۷۱وَ اتْلُ عَلَيْهِمْ کفرکرتے (چلے جاتے) ہیں ہم انہیں سخت عذاب کا( مزا) چکھائیں گے۔اور تو انہیں نوح کا حال( بھی) سنا۔کیونکہ