تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 150 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 150

حکومت۔اَلْوَالِیُّ۔حاکم اَلْمَلِکُ بادشاہ (اقرب) تفسیر۔اتخاذ ولد والےشرک کی تخصیص کے ذکر کی وجہ چونکہ یہ فرمایا تھا کہ کفار کی تباہی کے سامان تو خود اس تعلیم میں پنہاں ہیں جس پر وہ چلتے ہیں۔اس لئے اب اس کی وضاحت کے لئے شرک کے عقیدہ کا بطلا ن بھی کر دیا۔اور شرک کی اقسام میں سے اس کو چن لیا جو مہذب اقوام میں رائج تھا۔اور جس کو سب عقائد سے زیادہ طاقت حاصل تھی یعنی اللہ کے بندہ کو اس کا بیٹا قرار دینا۔دوسرے باقی اقسام کے شرکوں میں تو مشرک صرف یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ ہمارے معبود ہمیں اللہ تعالیٰ کے قریب کر دیں گے مگر بیٹا قرار دینے میں ایک چیز کو الوہیت میں شریک قرار دیا جاتا ہے۔ابطال عقیدہ اتخاذ ولد اس عقیدے کے رد میں چار دلیلیں پیش کی ہیں۔اوّل سُبْحَانَہٗ دوم۔ھُوَالغَنِیُّ۔سوم لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ۔چہارم اِنْ عِنْدَکُمْ مِّنْ سُلْطٰنِ بِہٰذَا۔یعنی شرک کی کوئی دلیل نہ ہونا۔سُبْحٰنَهٗ کے معنی سُبْحٰنَهٗ میں یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ عیب سے پاک ہے۔اور ولد کا ماننا اس کو عیب میں ملوث قرار دینا ہے۔کیونکہ بیٹے کے ہونے کے لئے شہوات کی ضرورت ہے اور یہ عیب ہے۔دوم بیٹے کے لئے باپ میں موت کی قابلیت کی شرط ہے اور یہ بھی عیب ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ آئندہ نسل انہی چیزوں کی چلتی ہے جو اپنے وقت سے پہلے فنا ہوجاتی ہیں۔زمین اور سورج میں سے آگے کوئی اور وجود نہیں نکلتا۔کیونکہ ان کی جس عرصہ تک کے لئے ضرورت ہے اس وقت تک وہ قائم رہیں گے۔لیکن درخت انسان حیوان چونکہ اس وقت سے پہلے فنا ہوجاتے ہیں جب تک کہ ان کی ضرورت ہے ان کی نسل کا سلسلہ چلتا ہے۔تاکہ فنا ہونے والوں کی جگہ دوسرے وجود لے لیں۔پس کسی چیز کی نسل کا ہونا اس کے فنا ہونے پر دلالت کرتا ہے۔دوسرے سلسلۂ تناسل شہوت پر بھی دلالت کرتا ہے۔اور شہوت خود ایک نقص ہے۔کیونکہ شہوت جسم کی کسی زیادتی پر دلالت کرتی ہے۔جسے جسم میں محفوظ نہ رکھا جاسکے۔پس اس سے باہر ایک اور چیز پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔لیکن خدا تعالیٰ سبحان ہے۔پس ایسی بات اس کی طرف منسوب نہیں کی جاسکتی۔صفت غنا کی دلالت دوسری دلیل یہ دی کہ وہ غنی ہے۔کسی کی مدد کا محتاج نہیں۔اس لفظ سے ایک دوسری دلیل شرک کے جواز کی رد کردی۔اور وہ یہ ہے کہ گو نسل کی اصل غرض فناء کے نقصان کو روکنا ہے لیکن کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ اپنے کاموں میں مدد حاصل کرنے کے لئے اپنی زندگی میں ہی مددگار کی ضرورت ہوتی ہے۔لیکن فرمایا کہ اللہ تعالیٰ غنی ہے۔کسی کی مدد کا محتاج نہیں۔پس اس لحاظ سے بھی اس کے ہاں بیٹے کا وجود تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔