تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 129 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 129

َلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ سنو جو کچھ آسمانوں اور زمین میں (پایا جاتا) ہے وہ سب( کا سب) یقیناً اللہ (تعالیٰ ہی) کا ہے۔سنو اللہ (تعالیٰ) کا وعدہ حَقٌّ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ۰۰۵۶ یقیناً پورا ہونے والا ہے۔مگر ان میں سے اکثر (لوگ) نہیں جانتے۔تفسیر۔زمین و آسمان اور جو کچھ اس میں ہے سب خدا تعالیٰ کا ہے۔اسے یا اس کے نیک بندوں کو فدیئے دے کر خوش کرنے کی کوشش بالکل لغو ہوتی ہے۔وہ اپنے مقصد کو پورا کرنے کے بغیر نہیں رہ سکتے۔اہل مکہ نے چاہا کہ شرک کے خلاف وعظ کو روکیں۔اور اس کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر قسم کی لالچ دی لیکن آپ نے یہی جواب دیا کہ خواہ سورج کو میرے دائیں اور چاند کو بائیں لاکھڑا کرو میں تو شرک کے خلاف وعظ کرنا نہیں چھوڑوں گا(سیرة النبی لابن ہشام زیر عنوان مُبَادَاۃ رسول اللہ قومہ۔۔۔)۔اور اس طرح توحید کی کامیابی کے دن کو پیچھے نہیں ڈالوں گا اسی طرح جب ایران نے مسلمانوں سے جنگ شروع کی اور اس کا جواب دینے کے لئے اسلامی لشکر ایران کے علاقہ میں گھس گیا تو ایرانیوں نے روپیہ دے کر صلح کرنی چاہی لیکن خدا تعالیٰ کے وعدے پورے کرنے کے لئے مسلمانوں نے ان کے اموال کو ٹھکرا دیا(تاریخ الطبری احداث السنة الرابع عشرة للھجرة )۔اصل بات یہ ہے کہ دنیا کے بادشاہ چونکہ خودمحتاج ہوتے ہیں فدیوں پر خوش ہوجاتے ہیں۔لیکن خدا تعالیٰ تو اموال کا خالق ہے اس کے سامنے فدیئے کچھ حیثیت نہیں رکھتے۔سوائے اس کے کہ خود اپنے نفس کی قربانی ہو۔اور وہ بھی اس لئے قبول کی جاتی ہے کہ وہ قربانی انسان کے نفس کو پاک کرنے کا موجب ہوتی ہے۔هُوَ يُحْيٖ وَ يُمِيْتُ وَ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ۰۰۵۷ وہ زندہ کرتا ہےاور مارتا ہے اور اسی کی طرف تمہیں لوٹا یا جائے گا۔تفسیر۔یہ تعجب کرتے ہیں کہ ہم میں ایک شخص کھڑا ہوکر کس طرح کامیاب ہوسکتا ہے۔لیکن نہیں دیکھتے کہ روزانہ دنیا میں ترقی اور تنزل کے نظارے نظر آرہے ہیں۔پھر کیا خدا کا رسول ہی کامیاب نہ ہوگا جس کی طرف یہ بھی اور دوسری مخلوق بھی فیصلہ کے لئے پیش کی جاتی ہے؟