تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 130
يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ شِفَآءٌ اے لوگو تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے یقیناً ایک( ایسی کتاب جو سراسر) نصیحت (ہے) اور( ہر) اس لِّمَا فِي الصُّدُوْرِ١ۙ۬ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ۰۰۵۸ (بیماری) کےلئے جو سینوں میں (پائی جاتی) ہو شفا (کا سامان ہے) اور ایمان لانے والوں کے لئے ہدایت اور رحمت (ہے) آئی ہے۔حلّ لُغَات۔مَوْعِظَۃٌ اَلْمَوْعِظَۃُنصیحت وَعَظَ کا اسم مصدر ہے۔وَعَظَہٗ نَصَحَہٗ وَذَکّرَہٗ مَایُلَیِّنُ الْقُلُوْبَ مِنَ الثَّوَابِ وَالْعِقَابِ۔ایسی نصیحت کی جو دل کو نرم کر دے۔کہیں سزا کی باتیں بتابتا کر اور کہیں کامیابی کے رستے بتا بتا کر۔خلیل نحوی ادیب نے وعظ کے معنی ھُوَالتَّذْکِیْرُ بِالْخَیْرِ فِیْمَا یَرِقُّ لَہٗ الْقَلْبُ کئے ہیں یعنی وعظ ایسی باتوں کے یاد دلانے کو کہتے ہیں جن کے سننے سے دل میں نرمی پیدا ہوتی چلی جاتی ہے۔اَلْمَوْعِظَۃُ کَلَامُ الْوَاعِظِ مِنَ النُّصْحِ وَالْحَثِّ وَالْاِنْذَارِ مَوْعِظَۃٌ اس کلام کو کہتے ہیں جو نہایت اخلاص پر مبنی ہو۔اور نیک باتوں کی طرف ترغیب دے اور بری باتوں سے ڈرائے۔(اقرب) تفسیر۔آنحضرت ؐ کی کامیابی کا راز مادی قوت میں نہیں بلکہ ان اعلیٰ کمالات میں مضمر ہے جن پر یہ کتاب مشتمل ہے پہلے تو ایک لطیف پیرایہ میں نصیحت کی کہ عذاب کی خواہش نہیں کرنی چاہیے۔پس تم عذاب نہ مانگو۔پھر مختلف طریقوں سے انہیں عذاب کی حکمتیں سمجھائی ہیں اور اب فرمایا کہ آؤ ہم تم کو بتائیں کہ یہ محمد (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) کس طرح کامیاب ہوگا؟ اس کی کامیابی کا راز فوجوں میں اور مال میں اور جتھے میں پوشیدہ نہیں ہے بلکہ اس کی کامیابی تمام تر اس کتاب کے کمالات سے وابستہ ہے جو اسے ملی ہے۔ایسی باکمال کتاب کا مقابلہ دیر تک نہیں کیا جاسکتا۔آخر انسان اسی کی طرف لوٹنے پر مجبور ہوتا ہے۔مَوْعِظَةٌ کی تفصیل جو کتاب اسے ملی ہےوہ موعظہ ہے۔یعنی (ا) اس میں لوگوں کے فائدے کی باتیں ہیں جو اخلاص سے پر ہیں۔اور اخلاص کا کلام آخر دل پر اثر کرکے ہی رہتا ہے۔جس وقت تم غور کرو گے کہ اس کلام میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذاتی فائدہ بالکل نہیں اس کے ذریعہ سے مال یا عزت یا دبدبہ یا حکومت کچھ بھی اسے مطلوب نہیں بلکہ اس پر عمل کرنے میں صرف تمہارا ہی فائدہ ہے۔تو خودبخود اس کی طرف توجہ کرو گے۔