تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 125 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 125

دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔اور اگر تم سمجھتے ہو کہ تم عذاب کے مستحق نہیں ہو تو بجائے یہ کہنے کے کہ عذاب کب آئے گا یہ ثبوت پیش کرنا چاہیے کہ تمہارے اعمال اور تمہاری حالت عذاب کی مستحق ہی نہیں۔اس لئے عذاب آہی نہیں سکتا۔اہل مکہ کی تباہی کی طرف اشارہ بَیَاتًا اَوْنَھَارًا کے الفاظ میں ایک لطیف اشارہ اہل مکہ کی تباہی کی طرف کیا ہے۔ان کے لئے دن کے وقت بھی عذاب مقدر تھا اور رات کے وقت بھی۔بدر کے موقع پر وہ دن کے وقت تباہ کئے گئے۔جو سب سے پہلی اصلی جنگ ہے اور جنگ احزاب کے موقع پر جو حقیقی طور پر آخری جنگ تھی رات کے وقت ان کی تباہی کے سامان پیدا کئے گئے۔اس آیت میں رات کے عذاب کو مقدم اس لئے کیا گیا ہے کہ اس عذاب سے ان کا بالکل خاتمہ ہو جانے والا تھا۔يَسْتَعْجِلُ مِنْهُ میں ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف بھی پھر سکتی ہے اور عذاب کی طرف بھی۔اَثُمَّ اِذَا مَا وَقَعَ اٰمَنْتُمْ بِهٖ١ؕ آٰلْـٰٔنَ وَ قَدْ كُنْتُمْ بِهٖ کیا پھر (بعد میں یعنی) جب وہ آجائے گا (تو اس وقت) تم اس پر ایمان لاؤ گے( اس کا کچھ فائدہ نہیں ہوسکتا۔اس وقت تو تَسْتَعْجِلُوْنَ۠۰۰۵۲ تم سے کہا جائے گا کہ) کیا اب (تم ایمان لاتے ہو) حالانکہ (اس کے آنے تک) تم اس کے جلد آنے کا مطالبہ کرتے رہے ہو۔تفسیر۔یعنی نشان کی غرض تو فائدہ اٹھانا ہوتی ہے۔لیکن تم لوگ جو عذاب طلب کرتے ہو تمہاری کیا غرض ہے۔کیا عذاب آنے پر ایمان لاؤ گے؟ لیکن اس وقت کا ایمان نفع نہیں دیا کرتا۔بلکہ اس وقت تو یہ کہا جاتا ہے کہ اب ایمان کا فائدہ نہیں۔اب تو اس عذاب کے چکھنے کا وقت ہے جس کے جلدی نازل ہونے کا تم مطالبہ کیا کرتے تھے۔عذاب مانگنے والوں کے رد میں یہ کیسی زبردست دلیل ہے۔نشان تو فائدے کے لئے ہوتے ہیں۔لیکن عذاب کا نشان اس کے لئے جو عذاب مانگتا ہے فائدہ کا موجب نہیں ہوسکتا۔ہاں! دوسروں کو نفع دیتا ہے۔مگر ایک شخص جو خود تباہ ہوجائے اور خدا تعالیٰ کے قرب سے محروم ہو جائے تو اسے دوسروں کے نفع پانے سے جو کہ خود مشکوک ہے کیا فائدہ؟