تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 124
کرتی ہیں کہ قرآن کریم کی غرض صرف توحید کا اثبات ہے وہ کسی انسان کو خدا تعالیٰ کے برابر کھڑا نہیں کرتا۔خواہ وہ خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی کیوں نہ ہوں۔اس جگہ امت سے مراد لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ سے کفر کی امۃ مراد ہے۔لِکُلِّ اُمَّۃٍ رَسُوْلٌ والی امۃ مراد نہیں۔اور مطلب اس کا یہ ہے کہ کفر کی جماعتوں پر ایک زمانہ ضرور ایسا آتا ہے کہ ان کا سلسلہ بند کرکے نبی کے ذریعہ سے ایک نیا سلسلہ جاری کر دیا جاتا ہے۔یعنی گو میرے اختیار میں عذاب دینا نہیں لیکن چونکہ خدا تعالیٰ کا یہ قاعدہ ہے کہ ہر ایک قوم ایک خاص مدت تک ترقی کرتی ہے اور جب وہ اپنی حالت کو بدل لیتی ہے تو تباہ کر دی جاتی ہے۔اس لئے میں یہ جانتا ہوں کہ تم اس حالت پر قائم نہیں رہ سکتے۔ضرور ہے کہ تم کو تباہ کرکے صداقت کا دور شروع کر دیا جائے۔قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُهٗ بَيَاتًا اَوْ نَهَارًا مَّا ذَا تو (انہیں) کہہ (کہ بھلا) بتاؤ (تو سہی کہ) اگر اس کا عذاب رات کو دفعۃً یا دن کو( تمہارے دیکھتے دیکھتے )تم پر آجائے يَسْتَعْجِلُ مِنْهُ الْمُجْرِمُوْنَ۰۰۵۱ تو مجرم لوگ اس سے کیونکر بھاگ سکیں گے۔حلّ لُغَات۔اَرَأَ یْتُمْ کے لفظی معنی ہیں کیا تم نے دیکھا۔لیکن عربی محاورہ میں اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اَخْبِرُوْنِیْ مجھے بتاؤ تو سہی۔(اقرب) بَیَاتٌ اَلْبَیَاتُ اِسْمٌ مِنْ بَیَّتَ الْعَدُوِّ کَا لْکَلَامِ مِنْ کَلَّمَ۔بَیَاتٌ کے معنی تَبْیِیْتٌ کے ہیں۔جو بَیَّتَ کی مصدر ہے۔بَیَّتَ الْاَمْرَ عَمِلَہٗ اَوْ دَبَّـرَہٗ لَیْلًا۔بَیَّتَ کے معنی ہیں رات کو کام کیا۔یا رات کو اس کی تدبیر کی۔اَلْقَوْمَ وَالْعَدُوَّ اَوْقَعَ بِھِمْ لَیْلًا مِنْ دُوْنِ اَنْ یَّعْلَمُوْا۔جب قوم اس کی مفعول ہو تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ رات کے وقت بغیر ان کی اطلاع کے ان پر حملہ کر دیا۔شب خون مارا۔(اقرب) تفسیر۔مطالبہ عذاب کا دوسرا جواب اس آیت میں عجیب نکتہ بیان فرمایا ہے کہ تم کو یہ بحث نہ کرنی چاہیے کہ عذاب آج آئے گا یا کل یا کب آئے گا۔بلکہ دیکھنایہ چاہیے کہ تم عذاب کے مستحق ہو یا نہیں۔اگر مستحق ہو تو سمجھ لینا چاہیے کہ آج نہیں تو کل ضرور عذاب میں مبتلا ہو گے۔اور اس صورت میں تمہیں اپنی حالت کو بدل کر عذاب