تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 119 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 119

کرلے گا مگر اس مضمون کے بیان کرنے کی کوئی ضرورت معلوم نہیں ہوتی۔اصل بات یہ ہے کہ انہوں نے اس آیت پر غور نہیں کیا۔معرفت کے معنی صرف ظاہری صورت کو پہچان لینے کے نہیں ہوتے بلکہ حقیقت کے جان لینے کے بھی ہوتے ہیں اور یہی اس جگہ مراد ہیں۔ہمارے ملک میں بھی کہا کرتے ہیں کہ میں نے آپ کو پہچان لیا ہے یعنی آپ کی حقیقت جان لی ہے۔اسی طرح قیامت کو یا جب خدائی فیصلہ اس دنیا میں ظاہر ہوگا اس وقت ان لوگوں کو معلوم ہوگا کہ نبیوں کی خیرخواہی کیسی تھی۔اور ان کی کیا قدر تھی اور ان کے دوستوں کی حالت اور قیمت کیا تھی! تکذ یب لقاء الٰہی کے بد نتائج كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰهِ میں یہ بتایا ہے کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی ملاقات کی تکذیب کا نتیجہ ہے۔مسلمانوں نے بھی آج اس بات کو چھوڑ دیا ہے۔اس لئے وہ گررہے ہیں۔اگر انسان کو یہ مدنظر رہے کہ خدا مل سکتا ہے تو خوف رکھنے والی طبیعت میں ڈر پیدا ہوجاتا ہے اور محبت رکھنے والا دل اپنے محبوب سے ملنے کی امید میں تڑپ جاتا ہے۔پس یہ ایک زبردست قوت محرکہ یا موٹو پاور ہے یہی جاتی رہے تو نتیجہ بجز غفلت کے اور کیا ہوسکتا ہے۔وَ اِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ۠ فَاِلَيْنَا اور جس (عذاب کے بھیجنے) کا ہم ان سے وعدہ کرتے ہیں اگر ہم اس کا کوئی حصہ( تیرے سامنے بھیج کر) تجھے دکھادیں( تو مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ اللّٰهُ شَهِيْدٌ عَلٰى مَا يَفْعَلُوْنَ۰۰۴۷ توبھی دیکھ لے گا) اور( اگر) ہم (اس گھڑی سے پہلے) تجھے وفات دے دیں تو (تجھے ما بعد الموت اس کی حقیقت معلوم ہو جائے گی کیونکہ بہرحال) انہیں ہماری طرف لوٹنا ہےپھر (یہ بات بھی تو ہے کہ )جو کچھ وہ کرتے ہیں اس سے اللہ تعالیٰ آگاہ ہے۔حلّ لُغَات۔اِمَّا اِمَّااصل میں اِنْ مَا ہے۔مَا زائدہ ہے۔زائدہ ایک اصطلاح ہے۔جس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ وہ حرف یا لفظ پہلے لفظ یا حرف کے معنوں کی تاکید کرتا اور ان میں قوت اور زیادتی پیدا کرتا ہے۔اور اس کے بڑھنے سے کلام کے اندر ایک نئی خاصیت پیدا ہوجاتی ہے۔جو اس کے اصل مفہوم کو زیادہ زوردار بنادیتی ہے۔اِنْ کے ساتھ مَا کے بڑھنے سے اس کے معنی میں جو زیادتی پیدا ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اکیلا اِنْ تو محض ایک احتمال کا اظہار کرتا ہے۔(خواہ وہ واقعی ہو یا خود پیدا کردہ) جس کے ساتھ توقع کا پایا جانا ضروری نہیں ہوتا اور اِمَّا ایسے موقع پر استعمال ہوتا ہے جہاں توقع بھی ہو۔یعنی لفظ مَا لفظ اِنْ کے ظاہر کردہ احتمال کو زوردار بناکر اس کے