تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 118
تَعَارُفٌ یَتَعَارَفُوْنَ عَرَفَ میں سے باب تفاعل کا فعل مضارع ہے۔تَعَارَفَ الْقَوْمُ عَرَفَ بَعْضُہُمْ بَعْضًا۔ایک دوسرے کو پہچانا۔ایک دوسرے کے متعلق آگاہی حاصل کی۔(اقرب) تفسیر۔كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰهِ میں یہ فرمایا کہ اگر وہ خوف سے ماننے والے ہوتے تو بھی لقاء کی یاد سے ڈر جاتے۔اور اگر محبت سے ماننے والے ہوتے تو بھی وہ اس میں ترقی کرتے اور ان کی اطاعت پہلے سے زیادہ ہوتی۔گھڑی سے مراد سَاعَةً مِّنَ النَّهَارِ کے معنوں میں لوگوں کو بڑی غلطی لگی ہے۔اس کے معنی دن کی ایک گھڑی کرکے پھر وہ اس بات کے پیچھے پڑ گئے ہیں کہ کون سی گھڑی اور کتنی بڑی گھڑی۔اور پھر تطبیق دینے کے لئے انہیں اور بھی مشکل پیش آئی ہے۔قرآن شریف میں متعدد جگہ کفار کے دنیا میں ٹھہرنے کو سَاعَۃً مِّنَ النَّہَارِ ہی سے تعبیر کیا گیا ہے۔لیکن ان تمام جگہوں میں ان کے ٹھہرنے کا وقت بتانا مراد نہیں۔بلکہ یہ بتانا مقصود ہے کہ ان کی زندگی خواب غفلت میں ہی گذری ہے۔جس کی یہ وجہ ہے کہ نہار یعنی دن کا وقت کام کرنے کا ہوتا ہے اور کفار چونکہ اپنے اوقات کا بیشتر حصہ دنیا کمانے میں ہی گذارتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے سے بالکل غافل رہتے ہیں اس لئے ان کے متعلق یہ کہنا بالکل صحیح ہے کہ وہ دن کا نہایت ہی قلیل حصہ دنیا میں رہے ہیں۔خواہ بظاہر وہ لاکھوں برس ہی دنیا میں کیوں نہ رہے ہوں کیونکہ اس وقت سے انہوں نے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا۔اور جس کام کے لئے وہ دنیا میں آئے تھے اس کے لئے انہوں نے اسے استعمال نہیں کیا۔اس لئے ان کے دن بھی راتیں ہی ہو گئے اور وہ گویا دن کی ایک گھڑی بھر ہی دنیا میں رہے ہیں۔پس ان الفاظ میں لمبے عرصہ تک ٹھہرنے کا رد نہیں بلکہ ان کے کام کے زمانہ کو چھوٹا کرکے بتانا مقصود ہے۔اگر مقدار بتانا مدنظر ہوتا تو نہار کی کوئی خصوصیت نہ تھی۔رات سے بھی وقت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔غرض یہاں یہ بتایا گیا ہے کہ دنیا میں تو ان کی آنکھوں پر پردے چھائے ہوئے ہیں لیکن قیامت کو ان پر پورا انکشاف ہو جائے گا کہ وہ نکمے پڑے رہے اور سوئے رہے اور کوئی کام نہیں کیا۔يَتَعَارَفُوْنَ بَيْنَهُمْ یعنی وہ ایک دوسرے کی حقیقت سے آگاہ ہو جائیں گے۔اس دنیا میں تو لوگ باوجود آپس کے سخت اختلاف کے انبیاء کے مقابلہ میں جمع ہو جاتے ہیں اور ان کی مخالفت میں بڑا حصہ لینے لگتے ہیں اور انہیں برا بھلا کہنا شروع کردیتے ہیں لیکن قیامت کے دن ان سب پر حقیقت آشکار ہو جائے گی اور وہ سمجھ لیں گے کہ ہم آپس میں بھی ایک دوسرے کو دھوکا دیتے رہے ہیں وہ اس دن پھوٹ ، تفرقہ اور فضیحت کو محسوس کریں گے۔مفسرین نے اس کے یہ معنی کئے ہیں کہ آپس میں پہچان لیں گے۔یعنی بیٹا باپ کو اور باپ بیٹے کو شناخت