تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 120 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 120

متعلق توقع کا اظہار بھی کرتا ہے۔تَوَفّٰی نَتَوَفَّیَنَباب تفعّل سے فعل مضارع ہے جس کاماخذ وَفَاۃٌ ہے۔چنانچہ کلیات ابی البقاء میں لفظ تَوَفّٰی کے ذیل میں ہے وَالْفِعْلُ مِنَ الْوَفَاۃِ اور وفات کے معنی موت کے ہیں۔(اقرب) تَوَفّٰی اللہُ زَیْدًا قَبَضَ رُوْحَہٗ۔اس کی جان نکال لی۔اسے وفات دے دی۔اس کی روح کو قبض کرلیا۔تُوُفِّیَ فُلَانٌ مَجْہُوْلًا قُبِضَتْ رُوْحُہٗ وَمَاتَ۔اس کی جان نکال لی گئی اور وہ مر گیا۔فَاللہُ المُتَوَفِّی وَالْعَبْدُ الْمُتَوَفّٰی۔غرض ان معنوں میں اس کے استعمال کے وقت اس کا فاعل اللہ اور مفعول بندہ ہوتا ہے۔(اقرب) تفسیر۔اِمَّا نُرِيَنَّكَ کے معنی عام طور پر عربی سے ناواقف لوگ اس آیۃ کا ترجمہ کرنے میں غلطی کرجاتے ہیں۔اصل میں یہ دو الگ الگ جملے ہیں۔وَ اِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُهُمْ تک ایک جملہ اور اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ۠ دوسرا جملہ۔پہلے جملہ کے معنی یہ ہیں کہ اگر ہم دکھادیں تجھے بعض ان میں سے جو ہم ان سے وعدہ کرتے ہیں۔یعنی وہ غیب کی خبریں جو ہم نے ان کے متعلق تجھے بتائی ہیں۔ان کا بعض حصہ تیری زندگی میں پورا کر دیں تو تو ان کو دیکھ لے گا۔نَعِدُمیں وعیدی کی پیشگوئیاں اس جگہ پر تَرٰھَا محذوف ہے۔اور اس جملہ میں وعیدی پیشگوئیاں مراد ہیں۔جیسا کہ ان کے الفاظ سے ظاہر ہے کیونکہ کافروں سے خدا تعالیٰ نے انعامات کا وعدہ نہیں کیا تھا۔اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ وعدہ کا لفظ وعدہ اور وعید دونوں کے لئے استعمال ہوجاتا ہے لیکن وعید کا لفظ عذاب کی پیشگوئی کے لئے خاص ہے۔اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ۠یا ہم تجھے وفات دے دیں۔اور وہ وعید تجھے نہ دکھائیں۔تو تجھ پر آخرت میں ہم ان کی حقیقت ظاہر کر دیں گے۔اس جگہ پر فَنُرِیَکَ ھٰذِہٖ فِی الْاٰخِرَۃِ محذوف ہے یعنی اس صورت میں ہم ان پیشگوئیوں کا انجام تجھے آخرت میں دکھا دیں گے۔عربی قاعدہ کے رو سے ایسے مواقع پر حذف بالاتفاق جائز ہے۔باقی رہا یہ سوال کہ کیونکر معلوم ہوا کہ یہی الفاظ محذوف ہیں۔سو یہ بات اگلے فقرہ فَاِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْسے ظاہر ہے ان الفاظ میں بتایا گیا ہے کہ اس تبدیلی سے کوئی نقصان نہ ہوگا۔کیونکر آخر یہ لوگ ہمارے پاس آئیں گے اور اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کی حقیقت کو وہاں ان پر ظاہر کر دے گا۔اس آیت میں کفار کو اس طرف توجہ دلائی ہے کہ تم لوگ تو عذاب کے متعلق جلدی کرتے رہتے ہو لیکن اللہ تعالیٰ کی سنت تو یہ ہے کہ وہ نہ صرف عذاب کے لانے میں دیر کرتا ہے بلکہ بعض دفعہ وہ عذاب کی خبروں کو ٹلا