تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 117 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 117

اِنَّ اللّٰهَ لَا يَظْلِمُ النَّاسَ شَيْـًٔا وَّ لٰكِنَّ النَّاسَ اَنْفُسَهُمْ اللہ( تعالیٰ کی شان) یقیناً( ایسی ہے کہ وہ) لوگوں پر کچھ بھی ظلم نہیں کرتا۔بلکہ لوگ اپنی جانوں پر يَظْلِمُوْنَ۰۰۴۵ ( آپ ہی) ظلم کرتے ہیں۔تفسیر۔اس آیت میں کیا ہی لطیف بات بیان فرمائی ہے جس طرح ٹیپ کا مصرعہ دل پر پڑتا ہے اسی طرح یہ آیت ہے۔فرمایا ہم جنہوں نے نبی بھیجا ہم تو منکروں کو ڈھیل دے رہے ہیں۔اور نہیں چاہتے کہ یہ لوگ جلد ہلاک ہوں۔لیکن یہ لوگ عذاب کی جلدی کرتے ہیں۔ہم نہیں چاہتے کہ ان پر ظلم ہو یعنی ان کے لئے حصول ہدایت کا ابھی موقع باقی ہو۔اور عذاب آجائے مگر یہ لوگ قولاً یا عملاً عذاب کے لئے شور مچاتے ہیں۔اس آیت میں ان تمام آیتوں کا جواب دے دیا گیا ہے جن سے لوگ یہ نکالا کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ہی بندوں کے دلوں پر مہر کردی ہے یا تقدیر کے مسئلہ کے ماتحت کہہ دیتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ہی چور اور ڈاکو بنادیئے ہیں۔کیونکہ یہ تمام باتیں ظلم پر مبنی اور ہدایت سے دور لے جانے والی ہیں مگر اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ بالکل ظلم نہیں کرتا بلکہ ہدایت پانے کے لئے جس قدر ممکن ہوسکے موقع دیتا ہے۔وَ يَوْمَ يَحْشُرُهُمْ كَاَنْ لَّمْ يَلْبَثُوْۤا اِلَّا سَاعَةً مِّنَ اور جس دن وہ انہیں ایسی حالت میں جمع کرے گاکہ( وہ محسوس کرتے ہوں گے کہ) گویا وہ دن کی ایک ساعت کے النَّهَارِ يَتَعَارَفُوْنَ بَيْنَهُمْ١ؕ قَدْ خَسِرَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا سوا (دنیا میں) نہیں رہے تھے( اس دن) وہ ایک دوسرے (کی حالت) کو معلوم کر لیں گے (یاد رکھو کہ) جن لوگوں نے بِلِقَآءِ اللّٰهِ وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِيْنَ۰۰۴۶ اللہ (تعالیٰ) کےحضور پیش ہونے( کےوعدہ) کو جھٹلایا اور وہ ہدایت کو قبول کرنے والے نہیں بنے۔انہوں نے نقصان (ہی )اٹھایا۔حلّ لُغَات۔سَاعَۃٌ السَّاعَۃُ سِتُّوْنَ دَقِیْقَۃً۔ایک گھنٹہ یا ساٹھ منٹ۔اَلْوَقْتُ الْحَاضِرُ۔اسی وقت۔عِبَارَۃٌ مِّنْ جُزْءٍ قَلِیْلٍ مِّنَ النَّھَارِ اَوِ اللَّیْلِ۔دن یا رات کا کچھ تھوڑا سا حصہ۔