تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 116 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 116

باتیں سنتے ہیں مگر درحقیقت ان کی تمام توجہ اعتراض پیدا کرنے کی طرف ہوتی ہے۔نیز فرمایا کہ بہرہ اگر عقلمند ہو تو اسے بھی اشارہ سے سمجھایا جاسکتا ہے مگر ان کی حالت تو بے وقوف بہرہ کی سی ہے جو اشارے بھی نہیں سمجھتا۔وَ مِنْهُمْ مَّنْ يَّنْظُرُ اِلَيْكَ١ؕ اَفَاَنْتَ تَهْدِي الْعُمْيَ وَ لَوْ اور ان میں سے بعض ایسے( بھی) ہیں جو تیری طرف( نظریں گاڑ کر)دیکھتے (رہتے) ہیں (تو) کیا پھر تو ان كَانُوْا لَا يُبْصِرُوْنَ۰۰۴۴ اندھوں کی اگرچہ وہ بصیرت (بھی )نہ رکھتے ہوں راہنمائی کر لے گا۔حلّ لُغَات۔عُمْیٌ عُمْیٌ اَعْمٰی کی جمع ہے۔اس کا فعل عَمِیَ ہے۔عَمِیَ ذَھَبَ بَصَرُہٗ کُلُّہٗ مِنْ عَیْنَیْہِ کِلْتَیْھِمَا بکلی آنکھوں سے اندھا ہو گیا۔فُلَانٌ ذَھَبَ بَصَرُ قَلْبِہٖ وَجَھِلَ دل کا اندھا اور بصیرت سے کورا ہو گیا۔غَوٰی بدراہ ہو گیا۔(اقرب) تفسیر۔ترجمہ والے عام طور پر یہاں غلطی کرجاتے ہیں اورلَا يُبْصِرُوْنَ کے معنی ’’نہیں دیکھتے‘‘ کر دیتے ہیں۔حالانکہ جب انہیں پہلے اندھا قرار دیا جاچکا تو پھر لَا يُبْصِرُوْنَ کے معنی نہ دیکھنے والے کرنا کیونکر درست ہوسکتے ہیں۔بلکہ جس طرح سے کہ پہلے انہیں بہرے قرار دے کر عقل کی نفی کی تھی ایسا ہی یہاں پر انہیں اندھے بتا کر بصارت کی نہیں بلکہ بصیرت کی نفی کی ہے۔کیونکہ اندھے ہونے کے باوجود بھی اگر ان میں بصیرت ہو تو وہ ہدایت حاصل کرسکتے ہیں۔محض ظاہر پر نظر رکھ کر فیصلہ نہیں کرناچاہیے اس آیت میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ محض ظاہر کو دیکھ کر فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔ظاہر پر نظر رکھنے والا بعض اوقات کہہ اٹھتا ہے کہ یہ کافر ہیں۔ان پر عذاب کیوں نازل نہیں ہوتا؟ حالانکہ ان دشمنوں میں بھی ایسے لوگ ہیں جو عقل رکھتے ہیں اور ان کے ہدایت پانے کی امید کی جاسکتی ہے۔اور دوسری طرف بعض آدمی ماننے والے خیال کئے جاسکتے ہیں۔لیکن حقیقت میں وہ ایسے ہیں جو سنتے ہوئے نہیں سنتے اور دیکھتے ہوئے نہیں دیکھتے۔بلکہ ان کی نظر ہمیشہ اعتراض کی طرف رہتی ہے۔نہ ان میں عقل ہے نہ بصیرت اسی وجہ سے عذاب اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے۔دوسرا شخص ظاہر سے دھوکا کھانے کی وجہ سے اس کو غلط طور پر وارد کرسکتا ہے۔ان معنوں کے رو سے یہ آیتیں وَ رَبُّكَ اَعْلَمُ بِالْمُفْسِدِيْنَ(یونس :۴۱) کی تفسیر ہیں۔یعنی انسان ظاہر پر نظر ڈال کر غلطی کرسکتا ہے مگر خدا تعالیٰ حقیقت کو جانتا ہے۔