تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 114 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 114

پاکر ایمان لا سکتے ہیں۔بلکہ ہمارا علم ہمیں بتاتا ہے کہ فی الواقع بھی ان منکروں میں سے بعض لوگ ایمان لے آئیں گے۔اس وجہ سے ہم فوراً عذاب نہیں دیتے بلکہ ڈھیل دے رہے ہیں۔یہ کیسی زبردست پیشگوئی ہے جو اپنے وقت پر پوری ہوئی۔اگر اہل مکہ شروع مخالفت میں ہی تبہ کر دیئے جاتے تو خالد بن ولید ،عمرو بن عاص ،عکرمہ اور اور ایسے ہی جلیل القدر بطل اسلام کہاں سے پیدا ہوتے۔وَ اِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ لِّيْ عَمَلِيْ وَ لَكُمْ عَمَلُكُمْ١ۚ اَنْتُمْ اور اگر وہ تجھے جھٹلائیں تو (انہیں) کہہ (کہ) میرا کِیا( خو د) میرے لئے (مفید یا مضر) ہوگا اور تمہارا کیا تمہارے بَرِيْٓـُٔوْنَ مِمَّاۤ اَعْمَلُ وَ اَنَا بَرِيْٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ۰۰۴۲ لئے۔جو کچھ میں کرتا ہوں اس سے تم بری (الذمہ) ہو اور جو کچھ تم کرتے ہو اس سے میں بری( الذمہ) ہوں۔حلّ لُغات۔بُرَآءُ بَرِیَٔ مِنْہُ۔یَبْرَءُ بَرَاءَ ۃً تَخَلَّصَ وَسَلِمَ مِنْہُ بچ گیا۔بے تعلق رہا۔محفوظ رہا۔بَرِیَٔ مِنَ الْمَرَضِ بَرْءًا بِالضَّمِّ وَاَھْلُ الْحِجَازِ یَقُوْلُوْنَ بَرَأْتُ مِنَ الْمَرَضِ بَرْءًا بِالْفَتْحِ نَقِھْتُ وَ تَعَافَیْتُ وَ شُفِیْتُ۔میںصحت یاب ہو گیا۔(اقرب) تفسیر۔لَاۤ اِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ فرمایا کہ اگر تم میری تکذیب کرتے ہو اور مجھے جھٹلاتے ہو تو بے شک ایسا کرو کیونکہ تم میں اور مجھ میں اختلاف ہے۔تم اور کام کررہے ہو اور میں اور کام کررہا ہوں۔اور اختلاف کی صورت میں ہر فریق کو حق ہے کہ دوسرے کی بات کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کرے۔لیکن بات اسی حد تک ہی رہنی چاہیے۔ایک دوسرے کو اس کی مرضی کے خلاف اپنی بات منوانے پر مجبور نہیں کرنا چاہیے۔چنانچہ جب میں تمہیں مجبور نہیں کرتا تو تم مجھے کیوں مجبور کرتے ہو۔پہلی آیت میں جو اَعْلَمُ بِالْمُفْسِدِيْنَ کہا تھا اس آیت میں اسی کی طرف اشارہ کیا ہے اور بتایا ہے کہ جب تمہاری جماعت الگ اور ہماری جماعت الگ۔تمہارے کام علیحدہ اور ہمارے کام جدا۔اور ہر ایک اس بات کو جانتا ہے تو پھر فساد اور جبر تک نوبت کیوں پہنچائی جائے؟ کیونکہ جبر تو اس صورت میں ہوسکتا ہے جبکہ ایک کی وجہ سے دوسرے پر حرف آتا ہو۔لیکن اس جگہ میرے یا میری جماعت کے کاموں کی وجہ سے تم پر کوئی حرف نہیں آسکتا۔اور تمہارے کاموں کی وجہ سے مجھ پر کوئی حرف نہیں آسکتا۔پس جبر ناجائز ہے۔