تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 113 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 113

انکار شروع کر دیتے ہیں۔اگر یہ سوال کیا جائے کہ اگر ایک لمبے عرصہ تک انبیاء کی بعض باتوں کی حقیقت کے انکشاف کا انتظار ضروری ہے تو پھر ان پر ابتداء دعویٰ میں ایمان لانا تو درست نہ ہوا تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس جگہ یہ ذکر نہیں کہ ایسے ثبوت نبیوں کے پاس نہیں ہوتے۔جن کی مدد سے انسان ابتداء ہی میں انہیں مان سکے۔بلکہ یہ ذکر ہے کہ وہ لوگ جو بعض صداقتوں سے فائدہ نہیں اٹھاتے بلکہ بعض خاص امور کو اہمیت دے دیتے ہیں۔ان کا کم سے کم فرض یہ ہے کہ وہ اس وقت تک تکذیب تو نہ کریں اگر وہ ثابت شدہ حقائق کو تسلیم نہیں کرتے تو ان کا یہ حق بھی تو نہیں کہ جن امور کے متعلق انہیں شبہ ہے ان کی حقیقت کے اظہار سے پہلے ان پر اعتراض شروع کر دیں۔كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ بعض پہلے لوگ بھی نبیوں سے اسی طرح کرتے چلے آئے ہیں۔یونہی شور مچا دیتے تھے۔ریورنڈ ویری صاحب نے بحوالہ مسٹر برنکمین اعتراض کیا ہے کہ جب اہل مکہ کو پورا علم نہیں ہوا تھا اور انہوں نے شور مچا دیا تھا تو پھر ان کا کیا قصور تھا مگر ویری صاحب نے یہ نہیں سمجھا کہ پورا علم حاصل نہ ہونا اور بات ہے اور نہ ہوسکنا اور بات ہے۔قرآن کریم یہ نہیں کہتا کہ انہیں پورا علم حاصل نہیں ہوسکتا تھا۔بلکہ یہ کہتا ہے کہ انہوں نے پورا علم حاصل نہ کیا تھا۔اور جب انہوں نے پیش کردہ باتوں پر غور ہی نہیں کیا اور صرف رَجُلٌ مِّنْہُمْ کہہ کر انکار کر دیا تو وہ الزام سے کیونکر بری ہوسکتے تھے؟ وَ مِنْهُمْ مَّنْ يُّؤْمِنُ بِهٖ وَ مِنْهُمْ مَّنْ لَّا يُؤْمِنُ بِهٖ١ؕ وَ اور ان میں سے بعض ایسے ہیں جو اس پر ایمان لے آئیں گے۔اور ان میں سے بعض ایسے ہیں جو اس پر ایمان نہیں رَبُّكَ اَعْلَمُ بِالْمُفْسِدِيْنَؒ۰۰۴۱ لائیں گے اور تیرا رب فساد کرنے والو ںکو خوب جانتا ہے۔تفسیر۔یعنی باوجود ان لوگوں کی اس حالت کے یہ سب لوگ ہدایت سے محروم نہیں رہیں گے۔بلکہ بعض لوگ اپنی حالت کو بدل کر ایمان لائیں گے اور صرف وہ لوگ ہدایت سے محروم رہیں گے جو آخر تک فساد پر مصر رہیں گے۔گویا بتایا کہ ڈھیل کی وجہ موجود ہے اور وہ یہ کہ صرف عقلی امکان ہی نہیں ہے کہ کفار مکہ میں سے بعض لوگ ڈھیل