تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 84 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 84

کبھی ضائع نہیں کرتا۔پھر حج اور عمرہ اور صفا اور مروہ کے طواف کا ذکر کرکے اس طرف اشارہ فرمایا کہ ہم نے جو تمہیں حج کا حکم دیا ہے تو ضرور ہے کہ وہ وقت آئے کہ جس میں تم آسانی سے حج کر سکو اور صفا اور مروہ کا طواف کر سکو۔غرض ان آیات میں یہ پیشگوئی کی گئی تھی کہ مکہ ایک دن ضرور فتح ہو گا کیونکہ جب یہ آیات نازل ہو رہی تھیں اس وقت کفار مسلمانوں کو بیت اللہ کے قریب بھی نہیں آنے دیتے تھے۔بلکہ اس کے کئی سال بعد بھی کفار نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو طواف نہیں کرنے دیا۔مگر بتایا کہ ایک وقت آئےگا کہ مکہ پر تمہارا قبضہ ہو گا اور تمہیں حج اور عمرہ میں کسی قسم کی دقّت کا سامنا نہیں کرناپڑےگا۔اور پھر آخر میں فرمایا کہ تمہارا خدا ایک ہی خدا ہے اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور وہ رحمٰن اور رحیم ہے پس تمہیں اُسی سے تعلق رکھنا چاہیے۔اور دشمنوں کی کثرت کو دیکھ کر گھبرانا نہیں چاہیے۔اللہ تعالیٰ اپنی توحید کو دنیا میں قائم کرےگا اور تمہیں اپنی رحمانیت اور رحیمیت کے نظارے دکھائےگا۔اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّيْلِ وَ النَّهَارِ آسمانوں اور زمین کی پیدائش رات اور دن کے آگے پیچھے آنے اور وَ الْفُلْكِ الَّتِيْ تَجْرِيْ فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنْفَعُ النَّاسَ وَ مَاۤ ا ن کشتیوں میں جو انسانوں کو نفع دینے والی چیزیں لے کر سمندر میں چلتی ہیں۔اور اس پانی میں جسے اللہ (تعالیٰ ) اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ مَّآءٍ فَاَحْيَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ نے بادل سے اتارا پھر اس کے ذریعہ زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کیا مَوْتِهَا وَ بَثَّ فِيْهَا مِنْ كُلِّ دَآبَّةٍ١۪ وَّ تَصْرِيْفِ الرِّيٰحِ وَ اور اس میں ہر ایک قسم کے جانور پھیلائے۔اور ہواؤں کے ادھر اُدھر پھیلانے میں اور ان بادلوں میں السَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَيْنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ۰۰۱۶۵ جو آسمان اور زمین کے درمیان مسخر ہیں (یقینا ً) اس قوم کے لئے جو عقل سے کام لیتی ہے کئی (قسم کے)نشان ہیں۔حل لغات۔اِخْتِلَافٌ یہ اِخْتَلَفَ کا مصدر ہے اور اِخْتَلَفَ زَیْدٌعَمْرًواکے معنے ہیں کَانَ