تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 85
خَلِیْفَتُہٗ یعنی زید عمرو کا قائم مقام ہوا۔وَجَعَلَہٗ خَلْفَہٗ اُسے اپنے پیچھے کیا۔اسی طرح اس کے ایک معنے ہیں اَخَذَہٗ مِنْ خَلْفِہٖ۔اُسے پیچھے سے پکڑا۔(اقرب) مفردات امام راغب میں لکھا ہے اِنَّ فِی اخْتِلَافِ اللَّیْلِ وَالنَّھَارِ کے معنے ہیں فِیْ مَجِیْءِ کُلِّ وَاحِدٍ مِنْھُمَا خَلْفَ الْاٰخِرِ وَتَعَاقُبِھَا۔یعنی رات اور دن کا ایک دوسرے کے آگے پیچھے آنا۔(مفردات) اَلْفُلْکُ کے معنے ہیں اَلسَّفِیْنَۃُ۔کشتی (اقرب) یہ لفظ مذکر بھی استعمال ہوتا ہے اور مؤنث بھی۔اسی طرح یہ لفظ واحد اور جمع دونوں طرح بولا جاتا ہے چنانچہ قرآن کریم میں دونوں کی مثالیں موجود ہیں۔ایک جگہ آتا ہے اِذْ اَبَقَ اِلَی الْفُلْکِ الْمَشْحُوْنِ (الصافات: ۱۴۱) یہ واحد کی مثال ہے۔دوسری جگہ فرماتا ہے حَتّٰی اِذَا کُنْتُمْ فِی الْفُلْکِ وَجَرَیْنَ بِھِمْ بِرِ یْحٍ طَیِّبَۃٍ(یونس :۲۳) اس میں فُلْک کی طرف ھُمْ جو جمع کی ضمیر ہے پھیری گئی ہے گویا یہاں یہ لفظ جمع کے طور پر استعمال ہوا ہے۔تفسیر۔پچھلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا تھا کہ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِيْمُ یعنی تمہارا معبود اپنی ذات میں اکیلا اور واحد خدا ہے۔اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور وہ بے انتہا کرم کرنےوالا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔اب اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمانیت اور رحیمیت کے مختلف نظائر کا ذکر کرتے ہوئے اپنی ہستی کا ثبوت پیش کیا ہے۔چنانچہ سب سے پہلے وہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش کی طرف بنی نوع انسان کو توجہ دلاتا ہے۔اور فرماتا ہے کہ اس پیدائش میں عقلمند قوم کے لئے بڑے بھاری نشان ہیں۔یعنی اگر وہ سوچیں اور غور سے کام لیں تو اس امر کو بآسانی سمجھ سکتے ہیں کہ آسمانوں اور زمین میں کوئی چیز بھی ایسی نہیں جس کا انسانی زندگی کے ساتھ تعلق نہ ہو۔اور یہ تمام چیزیں ایسی ہیں جن کے پیچھے صرف اللہ تعالیٰ کی رحمانیت کا ہاتھ کام کر رہا ہے۔انسان کی کسی کوشش اور عمل کا اس میں دخل نہیں چنانچہ دیکھ لو۔ہوا اور پانی اور سورج اور چاند اور ستارے انسان کے کسی عمل کے نتیجہ میں اسے نہیں ملے بلکہ محض اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت رحمانیت کے ظہور کے طور پر ان کو بنی نوع انسان کی خدمت میں لگا رکھا ہے۔اگر یہ چیزیں نہ ہوتیں تو انسان ایک لمحہ کےلئے بھی دنیا میں زندہ نہ رہ سکتا۔پھر آسمانوں اور زمین میں اگر ایک معین قانون کام نہ کر رہا ہوتا اور ایک غیر متبدل نظام جاری نہ ہوتا تب بھی انسانی زندگی بے کار ہو کر رہ جاتی مگر اللہ تعالیٰ نے جہاں دنیا کی ہر چیز انسان کے فائدہ کے لئے بنائی وہاں اس نے ہرچیز کو ایک قانون کا بھی پابند بنا دیا تاکہ انسان بغیر کسی خطرہ کے ترقی کر سکے۔اور زمین اور آسمان کی ہر چیز اس کی خدمت میں مصروف رہے۔اس حقیقت کو ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں بیان فرمایا کہ اَلَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا١ؕ مَا