تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 83
ساتھیوں میں سے بعض نے کہا کہ اس میں کیا حرج ہے؟ اور انہوں نے پیر صاحب کے نام ایک رقعہ لکھ کر بغیر میرے علم کے پانی میں ڈال دیا جب مجھے اس کاعلم ہوا تو میں نے جوش سے کہا کہ یہ شرک ہے اور میں نے فوراً پانی میں چھلانگ لگا دی اور کود کر وہ کاغذ پکڑ لیا اور اُسے باہر لے آیا اور جونہی میں نے ایسا کیا کشتی بھنور میں سے نکل گئی۔پس مومن پر خواہ کتنی بھی مشکلات آئیں اس کا فرض ہوتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ پر توکل رکھے اور اُس کے سوا کسی اور کا خوف اپنے دل میں نہ پیدا ہونے دے۔یہاں سوال ہو سکتا تھا کہ اچھا اگر وہی ایک معبود ہے تو ہمیں کیا معلوم کہ وہ ہم سے کیا معاملہ کرےگا؟ اس لئے فرمایا کہ وہ رحمٰن و رحیم ہے۔وہ ہمیشہ محبت کا ہی معاملہ کرتا ہے اور بندہ کو نہیں چھوڑتا۔سوائے اس کے کہ بندہ اُسے خود چھوڑ دے۔وہ پہلے بغیر کسی عمل کے انسان پر اپنے بے انتہا فضل نازل کرتا ہے اور جب بندہ ان سامانوں سے فائدہ اٹھاتا ہے تو رحیمیت کے ماتحت اس پر مزید احسان کرتا ہے۔اور یہ سلسلہ چلتا چلا جاتا ہے۔خدا تعالیٰ کے رحمٰن و رحیم ہونے کی مثال درحقیقت اس بوڑھے کے کھجور لگانے کی سی ہے جس نے بادشاہ سے دو تین دفعہ کئی ہزار روپیہ انعام کے طور پر لے لیا تھا۔بادشاہ کا خزانہ تو محدود تھا اس لئے وہ منہ پھیر کر چلا گیا مگر ہمارے خدا کا خزانہ محدود نہیں۔ہمارا بادشاہ تو خود کہتا ہے کہ مجھ سے مانگو میں تمہیں دوں گا۔اور پھر مانگتے چلے جائو تاکہ میں تمہیں دیتا چلا جائوں۔غرض اللہ تعالیٰ بے انتہا فضل کرنےوالا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔اس کے خزانے غیر محدود ہیں وہ کہتا ہے کہ تم پھر کام کرو تو میں پھر تمہیں انعام دوںگا۔پھر کرو تو مَیں پھر دوںگا۔اور ہمیشہ تمہیں اپنے انعامات سے حصہ دیتا چلا جائوںگا۔اس جگہ اِلٰهُكُمْ سے جو شبہ پیدا ہوتا تھا کہ شاید کسی اور کا خدابھی ہو گا یا کئی خدا ہوتے ہوں گے اس کا ازالہ لَااِلٰہَ اِلَّا ھُوَسے کر دیا اور الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ سے اس کی کامل صفات بیان کر کے عقلاً بھی کسی اور اِلٰہ کی ضرورت نہ رہنے دی۔ترتیب وربط۔اوپر کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا تھا کہ ابراہیمی دعا کے مطابق ہم نے تمہارا منہ بیت اللہ کی طرف کر دیا اور پھر فتح مکہ پر اس نے خاص طور پر زور دیا اور بتایا کہ لوگ فتح مکہ کا انتظار کر رہے ہیں فتح ہونے پر وہ اسلام میں جوق در جوق داخل ہو جائیںگے اور چونکہ جنگوں میں کئی قسم کی تکالیف پیش آتی ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے صبر کی تلقین کی اور دعائیں مانگنے کی طرف توجہ دلائی اور ساتھ ہی حضرت اسمٰعیل ؑ اور حضرت ہاجرہ ؑکی قربانیوں کی مثال بیان کر کے اس حقیقت کو واضح کیا کہ جو لوگ خدا تعالیٰ کے لئے قربانی کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو