تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 3 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 3

بڑھنے کی کوشش کرے۔غرض دنیا میں ہر شخص کا ایک مطمحِ نظر ہوتا ہے۔کسی کو کھانے پینے کا شوق ہوتا ہے۔کسی کو عیش و عشرت کا شوق ہوتا ہے۔کسی کو تجارت کا شوق ہوتاہے۔کسی کو اچھے لباس کا شوق ہوتا ہے۔کسی کو غیبت اور بدگوئی کا شوق ہوتا ہے۔کسی کو لڑائی جھگڑے کا شوق ہوتا ہے۔غرض کوئی انسان نہیں جس نے اپنے لئے کسی نہ کسی چیز کے حصول کوا پنا مقصد قرار نہ دیا ہوا ہو۔غریب سے غریب اور جاہل سے جاہل بھی اپنے سامنے کوئی نہ کوئی مقصد رکھتا ہے کسی کا مقصد چودھرایت حاصل کرنا ہوتا ہے۔کسی کا مقصد اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا ہوتا ہے۔کسی کا مقصد سیاسی اقتدار حاصل کرنا ہوتا ہے۔فرماتا ہے کہ جب کوئی نہ کوئی مقصد ہر انسان کے سامنے ہوتا ہے تو پھر تم وہ بات کیوں نہ کرو جس میں سب اچھی باتیں آجائیں۔تمہیں یہ تہیّہ کر لینا چاہیے کہ کوئی خوبی ایسی نہ ہو جس میں دوسرا ہم سے آگے نکل جائے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک دفعہ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کا آپس میں جھگڑا ہو گیا۔جب وہ جُدا ہوئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو افسوس ہوا آپ اِس خیال سے کہ اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی اور ذریعہ سے اس کی خبر ہوئی تو آپ کو تکلیف ہو گی فوراً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے اور عرض کیا یا رسول اللہ! آج ابوبکرؓ سے میرا جھگڑا ہو گیا تھا جس کا مجھے افسوس ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات سن کر غصہ آگیا اور آپ نے فرمایا تم لوگ کیوں اُسے تکلیف دینے سے باز نہیں آتے؟ جب تم لوگ اسلام کا مقابلہ کر رہے تھے تو وہ مجھ پر ایمان لایا تھا۔اور اس نے میرا ساتھ دیا تھا۔حضرت عمرؓ ابھی معذرت ہی کر رہے تھے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بھی خیال آیا کہ شاید حضرت عمرؓ میرے متعلق کوئی ایسی بات نہ کردیں جس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے ناراض ہو ں اس لئے وہ بھی دوڑ کر آئے کہ میں چل کر حقیقت حال بتائوں۔کہ میرا نہیں بلکہ عمرؓ کا قصور تھا۔مگر جونہی آپ دروازہ میں داخل ہوئے آپ نے دیکھا کہ حضرت عمررضی اللہ عنہ معذرت کر رہے ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُن کو ناراض ہو رہے ہیں۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اُسی وقت دوزانو ہو کر بیٹھ گئے اور عرض کیا۔یا رسول اللہ! فِدَاکَ اَبِیْ وَاُمِّیْ۔قصور میرا ہی تھا۔عمر کا قصور نہیں تھا۔اس طرح آپ نے حضرت عمرؓ پر سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی کو دُور کرنے کی کوشش کی(بخاری کتاب فضائل اصحاب النبی باب قول النبی لوکنت متخذا خلیلا۔۔۔۔)۔یہ تھی اُن کی نیکی میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی رُوح کہ قصور حضرت عمرؓ کا ہے مگر معافی حضرت ابوبکرؓ مانگ رہے ہیں تاکہ حضرت عمرؓ پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ناراض نہ ہوں۔درحقیقت اسلام اور دوسرے مذاہب میں جہاں اور بہت سے امتیازات ہیں جو اُس کی فضیلت کو نمایاں طور پر ثابت کرتے ہیں وہاں ایک بہت بڑا فرق یہ بھی ہے کہ دوسرے مذاہب صرف نیکی کی طرف بلاتے ہیں مگر اسلام