تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 2 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 2

وِّجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّيْهَا وَجْھَہُ۔یعنی ہر شخص کی کوئی نہ کوئی جہت ہوتی ہے یا ہر شخص کا کوئی نہ کوئی نصب العین ہوتا ہے جس پر وہ اپنی تمام تو جہات کو مرکوز کر دیتا ہے۔اور جسے زندگی بھر اپنے سامنے رکھتا ہے اور پورے انہماک اور توجہ سے اسے حاصل کرنےکی کوشش کرتا ہے۔مگر لوگ تو اپنے مقاصد اپنے لئے خود تجویز کرتے ہیں۔لیکن ہم اُمت محمدیہ پر رحم کرتے ہوئے خود ہی ایک بلند ترین مطمحِ نظر اس کے سامنے رکھتے ہیں اور ہدایت دیتے ہیں کہ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرٰتِ۔تمہارا مطمحِ نظریہ ہوناچاہیے کہ تم نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔اس جگہ نیکیوں میں ایک دوسرے کا مقابلہ کرنے کی تحریک فرما کر اللہ تعالیٰ نے قومی ترقی کا ایک عجیب ُگر بتایا ہے جسے افسوس ہے کہ اس زمانہ میں بالعموم مدّنظر نہیں رکھا جاتا۔چنانچہ عام طور پر دیکھا جاتاہے کہ اگر کسی شخص کو نیکیوں میں حصہ لینے کی نصیحت کی جائے یا کسی نیک کام کی ترغیب دلائی جائے تو اس کا جواب یہ ہوتا ہے کہ بس غریبوں پر ہی سارا زور ڈالا جاتا ہے امیروں کو تو کوئی پوچھتا ہی نہیں۔حالانکہ اگر کوئی بڑا ہے اور وہ نیکیوں میں حصہ نہیں لیتا تو وہ اس کی مثال اپنے سامنے کیوں رکھتے ہیں۔انہیں تو اچھے نمونے کی اقتداء کرنی چاہیے اور امارت اور غربت پر بنیاد رکھنے کی بجائے ہمیشہ یہ دیکھنا چاہیے کہ نیکی اور تقویٰ کس میں پایا جاتا ہے اگر ایک غریب میں نیکی پائی جاتی ہے تو وہ اس امیر کے مقابلہ میں جس کے اندر تقویٰ نہیں خدا تعالیٰ کے حضور لاکھوں گُنا زیادہ بہتر ہے۔صحابہؓ کی یہ کیفیت تھی کہ ایک دفعہ غرباء نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر شکایت کی کہ یا رسول اللہ! جس طرح ہم نمازیں پڑھتے ہیں اسی طرح امراء بھی نمازیں پڑھتے ہیں۔جس طرح ہم روزے رکھتے ہیں اُسی طرح امراء بھی روزے رکھتے ہیں۔جس طرح ہم جہاد کرتے ہیں اُسی طرح امراء بھی جہاد کرتے ہیں مگر یا رسول اللہ! ایک زائدکام وہ یہ کرتے ہیں کہ وہ صدقہ و خیرات دیتے ہیں اور ہم غربت اور ناداری کی وجہ سے اس میں حصہ نہیں لے سکتے۔ہمیں کوئی ایسا طریق بتائیے جس پر چل کر ہم اس کمی کو پورا کر سکیں۔آپ نے فرمایا تم ہر نماز کے بعد تینتیس تینتیس دفعہ سُبْحَانَ اللّٰہ اور اَلْحِمْدُ لِلّٰہ اور چونتیس دفعہ اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہہ لیا کرو۔وہ بڑے خوش ہوئے اور انہوں نے اس پر عمل شروع کر دیا۔مگر تھوڑے دنوں میں ہی امیروں کو بھی اس کا پتہ لگ گیا اور انہوں نے بھی تسبیح و تحمید شروع کر دی۔اس پر غرباء نے پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شکایت کی کہ یا رسول اللہ! انہوں نے بھی تسبیح و تحمید شروع کر دی ہے اب ہم کیا کریں۔آپؐ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ کسی کو نیکی کی توفیق دیتا ہے تو میں اس کو کس طرح روک سکتا ہوں(مسلم کتاب المساجد باب الذکر بعد الصلٰوة)۔یہ تھی ان کی نیکی اور اس میں تسابق کی روح۔اسی طرح بجائے اس کے کہ انسان اعتراض کرے اور کہے کہ فلاں سے یہ کام کیوں نہیں کروایا جاتا۔اُسے چاہیے کہ خود اس میں حصہ لے اور دوسروں سے آگے