تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 535
ہے وہ اس کی طاقت اور قابلیت کے عین مطابق ہے اور ایک دن وہ اس کام کو پایۂ تکمیل تک پہنچا کر دنیا کو دکھا دے گی کہ وہ اس منصب کی سب سے زیادہ اہل تھی۔اگر یہی کام پہلے کسی نبی کی امت کو کرنا پڑتا تو وہ اسے کبھی سرانجام نہ دے سکتی۔(۲) اس آیت میں اسلام کی اس فضیلت کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اس کے تمام احکام میں انسان کی کمزوریوں اور ضروریات کو مدّنظر رکھتے ہوئے ایسی لچک رکھی گئی ہے کہ ہر حالت میں وہ ان پر عمل کر سکتا ہے۔مگر باقی مذاہب اپنی تعلیم میں یا تو افراط کی طرف چلے گئے ہیں یا تفریط کی طرف اور اس طرح وہ اپنے حقیقی توازن کو کھوبیٹھے ہیں۔اور قلوب پر ان کی حکومت جاتی رہی ہے۔صرف اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جو فطرت انسانی کے مطابق تعلیم دینے کی وجہ سے انسان کے دل پر حکمرانی کر رہا ہے۔(۳) اس آیت میں اس طرف بھی اشارہ فرمایا ہے کہ جب تم کو تمام احکام تمہاری طاقت اور قابلیت کے مطابق دیئے گئے ہیں اور تم پر کوئی ناقابلِ برداشت بوجھ نہیں ڈالا گیا تو اب تمہارا فرض ہے کہ تم بھی دیانتداری کے ساتھ ان احکام پر ایسا عمل کرو جیسا کہ عمل کرنے کا حق ہے۔(۴) اس آیت میں کفارہ کا بھی ردّ کیا گیا ہے۔اور بتایا گیا ہے کہ گناہوں سے بچنا انسانی مقدرت سے بالا نہیں بلکہ ہر انسان کے اندر ایسی طاقت رکھی گئی ہے کہ وہ اگر گناہوں پر غالب آنا چاہے تو آسکتا ہے۔پس اس کی نجات کے لئے کسی کفارہ کی ضرورت نہیں بلکہ انسان کو خود اپنے فطری قویٰ کو ابھارنے اور ان سے کام لینے کی ضرورت ہے۔لَھَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَیْھَا مَا اکْتَسَبَتْ میں بتایا کہ ہم نے یہ قانون مقرر کر دیا ہے کہ اگر کوئی اچھا کام کرے گا تو اسے اس کا فائدہ پہنچے گا اور اگر کوئی بُرا کام کرے گا تو اس کا نقصان بھی اسے ہی پہنچے گا۔کسب اور اکتساب میں یہ فرق ہے کہ کسب کی نسبت اکتساب میں زیادہ محنت اور مشقت برداشت کرنی پڑتی ہے پس نیکی کے متعلق کسب اور بدی کے متعلق اکتساب کا لفظ رکھ کر اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ نیکی ایک فطری چیز ہے جس پر عمل انسان کے لئے کوئی بوجھ نہیں ہوتا لیکن بدی ایک غیرفطری چیز ہے جو اخلاقی قوتوں کو برمحل استعمال نہ کرنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے اس لئے اس کے مرتکب کو ایسے رستہ پر چلنا پڑتا ہے جو اس کے لئے تکلیف اور اذیت کا باعث بنتا ہے۔پھر ان الفاظ میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ نیکی تو ہر حال میں قابلِ جزا ہے۔لیکن بدیوں میں سے