تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 536
صرف اس بدی کی سزا ملے گی جس میں اکتساب کا رنگ پایا جائے گا۔یعنی قصداً اور ارادتاً اس کا ارتکاب کیا جائے گا۔اس کے بعد تزکیہ نفس کے لئے اللہ تعالیٰ مومنوں کو بعض خاص دعائیں سکھلاتا ہے کیونکہ دعا ہی ایک ایسا ذریعہ ہے جس سے انسان اللہ تعالیٰ کا چہرہ دیکھتا ہے اور دعا ہی ایک ایسا ذریعہ ہے جس سے اس کی قدرتوں پر زندہ ایمان پیدا ہوتا ہے اور پھر وہ دُعا جو اللہ تعالیٰ خود سکھائے اس کی قبولیت میں تو کسی شبہ کی گنجائش ہی نہیں رہتی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہمارے مومن بندے ہمیشہ یہ دعا کرتے رہتے ہیں کہ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا اِنْ نَّسِيْنَاۤ اَوْ اَخْطَاْنَا۔اے ہمارے ربّ! اگر ہم کبھی بھول جائیں یا کوئی خطا ہم سے سرزد ہو جائے تو ہمیں سزا نہ دیجیئو بلکہ ہم سے رحم اور عفو کا سلوک کیجیئو۔بھول جانے کے معنے یہ ہیں کہ کوئی کام کرنا ضروری ہو مگر نہ کیا جائے اور خطا کے یہ معنے ہیں کہ کام تو کیا جائے مگر غلط کیا جائے۔بعض لوگ اس بحث میں پڑ گئے ہیں کہ نسیان اور خطا دو ہم معنے لفظ یہاں کیوں لائے گئے ہیں۔وہ یہ نہیں سمجھتے کہ دنیا میں تمام کام دو قسم کے ہوتے ہیں کوئی کام تو ایسے ہوتے ہیں جو کرنے ضروری ہوتے ہیں مگر انسان نہیں کرتا اور کوئی کام ایسے ہوتے ہیں جو انسان کرتا تو ہے مگر غلط طور پر کرتا ہے اور یہ دونوں ہی غلطیاںہوتی ہیں۔نسیان کے معنے بھول جانے کے ہیں اور بھولنا کرنے کے متعلق ہوتا ہے نہ کرنے کے متعلق نہیں ہوتا۔پس لَا تُؤَاخِذْنَااِنْ نَّسِيْنَاۤ کے معنے یہ ہوئے کہ خدایا ایسا نہ ہو کہ جو کام ہمارے لئے کرنے ضروری ہیں وہ ہم نہ کریں اور اس طرح ہم ترقی سے محروم ہو جائیں۔پس تو ہماری حفاظت فرمااور ہمیں اس غلطی سے محفوظ رکھ۔اَوْ اَخْطَاْنَا ا ور یا الٰہی یہ بھی نہ ہو کہ جو کام ہمیں نہیں کرنا چاہیے وہ ہم کر لیں یا ہم کریں تو وہی جو ہمیں کرنا چاہیے مگر غلط طریق پر کریں پس نسیان اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ جو کام کرنے تھے وہ انسان سے رہ جائیں اور خطا کا لفظ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ جو کام نہیں کرنے چاہیے تھے وہ کر لئے جائیں یا جن کاموں کا کرنا ضروری تھا وہ غلط طور پر کئے جائیں۔غرض نسیان عدم عمل کا نام ہے اور خطا عمل کی خرابی کو کہتے ہیں۔اسی لئے یہاں دو لفظ استعمال کئے گئے ہیں۔پس ان میں سے کوئی لفظ بھی زائد نہیں بلکہ ہر لفظ اپنی اپنی جگہ ضروری ہے۔نسیان کی مثال ایسی ہی ہے جیسے آدمؑ کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ فَنَسِیَ وَ لَمْ نَجِدْ لَہٗ عَزْمًا (طٰہٰ : ۱۱۶) یعنی آدم ؑ بھول گیا لیکن ہم نے بھی دیکھ لیا کہ اس کے دل میں ہمارا حکم توڑنے کے متعلق کوئی ارادہ نہ تھا۔پھر فرماتا ہے۔رَبَّنَا وَ لَا تَحْمِلْ عَلَيْنَاۤ اِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهٗ عَلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِنَا۔یعنی مومن یہ بھی دعا کرتے ہیں کہ اے خدا!ہم پر اس طرح ذمہ واری نہ ڈالیو۔جس طرح تو نے ان لوگوں پر جو ہم سے پہلے گذر چکے ہیں ڈالی تھی۔اِصْـرٌ کے ایک معنے چونکہ گناہ کے ہیں اس لئے اس دعا کا ایک مفہوم یہ ہے کہ اے خدا! تو ہم پر اس