تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 534
مِنْ قَبْلِنَا١ۚ رَبَّنَا وَ لَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖ١ۚ ہمارے رب! اور تو ہم پر( اس طرح) ذمہ داری نہ ڈال جس طرح تو نے ان لوگوں پرجو ہم سے پہلے (گزر چکے) وَاعْفُ عَنَّا١ٙ وَ اغْفِرْ لَنَا١ٙ وَ ارْحَمْنَا١ٙ اَنْتَ مَوْلٰىنَا ہیں ڈالی تھی اے ہمارے رب! اور اسی طرح ہم سے (وہ بوجھ )نہ اٹھوا جس (کے اٹھانے) کی ہمیں طاقت نہیں۔اور فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ ہم سے درگزر کر اورہمیں بخش دے۔اور ہم پر رحم کر (کیونکہ) تو ہمارا آقا ہے پس کافروں کے گروہ کے خلاف ہماری مدد کر۔حلّ لُغات۔یُکَلِّفُ کَلَّفَہٗ کے معنے ہیں اَمَرَہٗ بِمَایَشُّقُّ عَلَیْہِ اسے ایسے کام کا حکم دیا جو اس پر گراں گذرا۔حدیث میں آتا ہے کُلِّفْنَا مِنَ الْاَعْمَالِ مَا نُطِیْقُ ( مسلم کتاب الایمان باب قولہ تعالٰی و ان تبدوا ما فی اَنفسکم) ہمیں ایسے ہی اعمال کا حکم دیا گیاہے جن کی بجا آوری کی ہم طاقت رکھتے ہیں۔اِصْرًا اَلْاِصْرُ کے معنے ہیں اَلثِّقْلُ۔بوجھ اَلْعَھْدُ۔پختہ عہد۔اَلذَّنْبُ۔گناہ۔(اقرب) حَمَّلْتَہٗ حَمَّلَہُ الْاَمْرَ کے معنے ہیں جَعَلَہٗ یَحْمِلُہٗ وَ کَلَّفَہٗ بِحَمْلِہٖ۔اس سے بوجھ اٹھوایا اور بوجھ اٹھوا کر اسے تکلیف اور مشقّت میں ڈالا۔تفسیر۔لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کوئی ایسا حکم نہیں دیتا جس کی بجاآوری کی انسان میں طاقت نہ ہو۔یا اس کی استعداد اور قابلیت سے بالا ہو۔پس جبکہ اس کی طرف سے ہمیشہ ایسے ہی احکام نازل ہوتے ہیں جن پر عمل انسانی مقدرت سے باہر نہیں ہوتا تو لازماً سب ذمہ داری انسان پر ہی عائد ہوتی ہے اور انعاماتِ الٰہیہ کا بھی وہی مستحق ٹھہرتا ہے اور عدمِ تعمیل کی بنا پر سزا کا بھی وہی مستحق قرار پاتا ہے اسی لئے آگے چل کر اللہ تعالیٰ نے یہ فرما دیا کہ لَھَا مَاکَسَبَتْ وَعَلَیْھَا مَا اکْتَسَبَتْ۔یعنی انسان اگر اچھا عمل کرے گا تو اس کا فائدہ بھی اسے ہی پہنچے گا۔اور اگر بُرا کام کرے گا تو اس کا نقصان بھی اسے ہی ہو گا۔ضمناً اس آیت میں اس مضمون کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے کہ جو کام اس زمانہ میں امتِ محمدیہ کے سپرد ہوا