تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 532 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 532

بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ١۫ وَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١ٞۗ پر ایمان رکھتے ہیں۔(اور کہتے ہیں کہ) ہم اس کے رسولوں میں ایک (دوسرے )کے درمیان (کوئی )فرق نہیں غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَ اِلَيْكَ الْمَصِيْرُ۰۰۲۸۶ کرتےاور (یہ بھی) کہتے ہیں کہ ہم نے (اللہ کا حکم) سن لیا ہے اور ہم اس کے (دل سے )فرمانبردار ہو چکے ہیں۔(یہ لوگ دعائیں کرتے ہیں کہ )اے ہمارے رب !ہم تیری بخشش طلب کرتے ہیں اور تیری ہی طرف ہمیں لوٹنا ہے۔تفسیر۔اس آیت میں تزکیۂ نفوس کی تکمیل کے لئے اللہ تعالیٰ پر ،اس کے ملائکہ پر، اس کی کتابوں پر اور اس کے تمام رسولوں پر ایمان لانا مومن کا شعار قرار دیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ جب تک عقیدہ اور عمل دونوں کی اصلاح نہ ہو انسان اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔مگر افسوس ہے کہ اتنی واضح آیت کے باوجود بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ نجات کے لئے صرف اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آنا کافی ہے۔اس کے رسولوں اور کتابوں وغیرہ پر ایمان لانا ضروری نہیں۔اسی قسم کے خیالات ڈاکٹر عبدالحکیم پٹیالوی کے بھی تھے(حقیقة الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ۱۱۲)۔اور انہی خیالات کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام نے اسے اخراج از جماعت کی سزادی اور بڑے زور سے تحریر فرمایا کہ یہ عقیدہ اسلام کے سراسر خلاف ہے۔اسلام تمام رسولوں پر اور بالخصوص محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم پر ایمان لانا نجات کے لئے ضروری قرار دیتا ہے۔لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ میں اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ کسی ایک رسول کا انکار بھی انسان کو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا مورد بنا دیتا ہے۔پس خواہ کوئی نبی تشریعی ہو یا غیرتشریعی پہلے زمانہ میں آچکا ہو یا آئندہ زمانہ میں آئے ہر ایک کا ماننا ضروری ہے۔بیشک مدارج کے لحاظ سے ان میں بڑا فرق ہے۔جس مقام پر رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم ہیں اس مقام پر نہ موسیٰ علیہ السلام ہیں نہ عیسیٰ علیہ السلام اور نہ کوئی اور نبی۔مگر جہاں تک نفس ِ ایمان کا سوال ہے جس طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پر ایمان لانا ضروری ہے اسی طرح بغیر کسی فرق کے موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام اور دوسرے انبیاء پر بھی ایمان لانا ضروری ہے اور اس لحاظ سے انبیاء میں کسی قسم کی تفریق پیدا کرنا جائز نہیں۔اسی طرح خدائی کلام پر عمل کرنے کے لحاظ سے بھی انبیاء میں کسی قسم کا کوئی امتیاز کرنا جائز نہیں۔بیشک ان کے درجات مختلف ہوں لیکن ان پر کلام نازل کرنے والا چونکہ ایک ہی ہے اس لئے یہ فرق کرنا کسی صورت میں بھی