تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 531 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 531

میں آتا ہے کہ لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِيْۤ اَيْمَانِكُمْ وَ لٰكِنْ يُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوْبُكُمْ (البقرۃ: ۲۲۶) (۳) تیسرے معنے اس کے عَلٰی کے ہو سکتے ہیں۔یعنی اس جرم پر اللہ تعالیٰ تم سے حساب لے گا۔يَغْفِرُ لِمَنْ يَّشَآءُ وَ يُعَذِّبُ مَنْ يَّشَآءُ میں بتایا کہ جیسی جیسی انسان کی نیت ہو گی ویسی ہی اس کی جزا ہو گی۔سزا کے مستحق سزا پائیں گے اور جو مغفرت کے مستحق ہوں گے اللہ تعالیٰ انہیں اپنے دامن مغفرت میں لے لےگا۔سورۂ بقرہ کے شروع میں رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے چار عظیم الشان کاموں کا ذکر کیا گیا تھا۔اوّل۔تلاوتِ آیات۔دوم تعلیم کتاب۔سوم تعلیم حکمت۔چہارمؔ۔تزکیہ نفوس۔آپؐ کے ابتدائی تین کاموں پر اس سورۃ میں تفصیلاً روشنی ڈالی گئی ہے۔اب صرف یُزَکِّیْھِمْ کے وعدہ کا ایفاء باقی تھا۔سو اس رکوع میں اس شق پر بھی روشنی ڈال دی۔ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ تزکیہ نفوس کا کام کسی انسان کے بس کا نہیں۔آخر والدین سے زیادہ محبت کرنےوالا اور کون وجود ہو سکتا ہے مگر وہ بھی اپنی اولاد کا تزکیہ نفس نہیں کر سکتے۔تزکیہ میں دوباتیں ضروری ہوتی ہیں۔اول ترک گناہ۔دومؔ روحانیت میں ترقی۔ترکِ گناہ کے لحاظ سے فرمایا کہ ہم تم کو یہ تعلیم دیتے ہیں کہ ہرچیز اللہ تعالیٰ ہی کی ہے اور آسمان و زمین اور کائنات کا ذرہ ذرہ سب اللہ تعالیٰ کے ماتحت ہے۔پس جس چیز کے لینے کی وہ اجازت دے صرف وہی تم لو اور جس سے منع کرے اس سے رک جائو کیونکہ مالک کی اجازت کے بغیر کسی چیز کو استعمال کرنے والا مستوجب سزا قرار پاتا ہے۔دوسری شق روحانیت میں ترقی کرنا تھا۔اس کے لئے فرمایا کہ سب کچھ ہمارا ہے۔اور ہمارے ہی ذریعہ سے ہر قسم کی خیروبرکت مل سکتی ہے۔اس لئے جب تم ہمارے حکموں کی اطاعت کروگے تو ہم تم کو اپنی مغفرت کے دامن میں لے لیں گے۔اور ہمارا قادرانہ تصّرف تمہیں ہمارے قرب میں پہنچا دے گا۔اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ؕ جو کچھ بھی اس رسول پر اس کے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اس پر وہ(خود بھی) ایمان رکھتا ہے اور (دوسرے) كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓىِٕكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ١۫ لَا نُفَرِّقُ مومن بھی( ایمان رکھتے ہیں)۔یہ سب (کے سب) اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں