تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 533 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 533

جائز نہیں کہ مثلاً فلاں نبی چونکہ درجہ میں بڑا ہے اس لئے اس پر نازل ہونے والے کلام کو تو ہم مانیں گے لیکن فلاں نبی چونکہ درجہ میں چھوٹا ہے اس لئے اس پر نازل ہونے والے کلام کو ماننا ہمارے لئے ضروری نہیں۔اس قسم کا احمقانہ فرق کرنا ایسا ہی ہے جیسے مثلاً کوئی کہے کہ میرے افسر نے فلاں حکم چونکہ رجسٹری کے ذریعہ نہیں بھیجا بلکہ عام ڈاک میں بھیجا ہے اس لئے میں نے اس کی تعمیل نہیں کی۔کیا جاہل سے جاہل شخص بھی اس قسم کا عذر پیش کر سکتا ہے اور کیا اسے تسلیم کرنے کے لئے کوئی تیار ہو سکتا ہے؟ اگر نہیں تو پھر خدائی کلام کے متعلق یہ فرق کس طرح کیا جا سکتا ہے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ ہی مومنوں کی یہ علامت بیان فرمائی ہے کہ وَقَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَ اِلَیْکَ الْمَصِیْرُ یعنی وہ احکامِ الٰہیہ کی اطاعت میں ایک ذراسی غفلت اور سستی بھی گوارا نہیں کرتے بلکہ ادھر اللہ تعالیٰ کا حکم سنتے ہیں اور ادھر کہتے ہیں سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا۔اے ہمارے رب! ہم نے تیرا حکم سن لیا اور ہم اس کے دل سے فرمانبردار ہیں۔غُفْرَانَکَ رَبَّنَا وَ اِلَیْکَ الْمَصِیْرُ۔غُفْرَانَكَ دراصل اِغْفِرْ غُفْرَانَكَ ہے۔یعنی غُفْرَانَكَ سے پہلے ایک فعل محذوف ہےاور معنے اس کے یہ ہیں کہ اے ہمارے ربّ! ہمیں اپنی بخشش سے حصہ دے اور ہمیں معاف فرما۔چونکہ گذشتہ آیات میں تزکیۂ نفس کی طرف خاص طور پر توجہ دلائی گئی تھی۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ اب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوتِ قدسیہ کے نتیجہ میں ایک ایسی جماعت پیدا ہو گئی ہے جو سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَ اِلَیْکَ الْمَصِیْرُ کہنے والی ہے اور جس کا سر خدا تعالیٰ کے آستانہ پر ہر حالت میں جھکا رہتا ہے۔لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا١ؕ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ عَلَيْهَا اللہ کسی شخص پر سوائے اس (ذمہ داری) کے جو اس کی طاقت میں ہو کوئی ذمہ داری نہیں ڈالتا۔جو اس نے (اچھا) کام کیا مَا اكْتَسَبَتْ١ؕ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا اِنْ نَّسِيْنَاۤ اَوْ اَخْطَاْنَا١ۚ ہو( وہ بھی) اس کے لئے( نفع مند) ہو گا اورجو اس نے (برا) کام کیا ہو (وہ بھی) اسی پر (وبال ہو کر) پڑے گا۔(اور وہ رَبَّنَا وَ لَا تَحْمِلْ عَلَيْنَاۤ اِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهٗ عَلَى الَّذِيْنَ یہ بھی کہتے ہیں کہ) اے ہمارے ربّ! اگر (کبھی) ہم بھول جائیں یا غلطی کر بیٹھیں تو ہمیں سزا نہ دیجیئو۔اے