تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 521 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 521

وَ اسْتَشْهِدُوْا شَهِيْدَيْنِ مِنْ رِّجَالِكُمْ۔یہ ساتواں حکم دیا کہ اس کے لئے دوگواہ بھی مِنْ رِّجَالِكُمْ بنائے جائیں یعنی اپنے واقف آدمیوں میں سے جن پر تمہیں اعتماد ہو اور جنہیں ضرورت کے وقت تم آسانی سے بلا سکتے ہو۔کوئی غیرملکی یا مسافر یا ناواقف آدمی نہ ہوں جن کی گواہی ضائع چلے جانے کا خطرہ ہو ورنہ تم ان کو کہاں تلاش کرو گے۔اس کے بعد جو مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَآءِ کے الفاظ آتے ہیں ان کا تعلق بھی وَ اسْتَشْهِدُوْا شَهِيْدَيْنِ سے ہی ہے۔ورنہ یہ مطلب نہیں کہ اگر رجال پسند نہ ہوں تو عورتیں ہی گواہ مقرر کر لی جائیں۔اس جگہ تَرْضَوْنَ میں یہ اشارہ کیا گیا ہے کہ گواہ ایسے ہونے چاہئیں جو فریقین کے پسندیدہ ہوں۔یعنی وہ گواہی دینے کی اہلیت بھی رکھتے ہوں۔۔ایسے نہیں ہونے چاہئیں جنہیں شاہد عادل قرار نہ دیا جا سکے۔فَاِنْ لَّمْ يَكُوْنَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَّ امْرَاَتٰنِ۔یہ آٹھواں حکم دیا کہ اگر دو مرد نہ ملیں تو پھر ایک مرد اور دو عورتیں گواہ بنا لیا کرو۔مگر گواہ انہیں کو بنائو جن کو تم پسند کرو۔ایک مرد کی بجائے دو عورتیں رکھنے کی وجہ یہ بتائی کہ اگر ان میں سے ایک بھول جائے تو دوسری یاد دلادے۔وہ بھول جائے تویہ یاد دلائے۔چونکہ دونوں میں سے ہر ایک بھول سکتی اور ہر ایک یاد کراسکتی ہے۔اس لئے لفظ مبہم رکھے ہیں اور اس لئے بھی کہ یہ فیصلہ نہیں ہو سکتا کہ کون بھولی ہے؟ اس لئے فرمایاکہ ان میں سے ہر ایک دوسری کو یاد دلا دے۔دراصل گھریلو جھگڑوں سے تعلق رکھنے والی باتوں کو تو عورت خوب یاد رکھتی ہے لیکن قضاء سے تعلق رکھنے والے امور کو اپنے ذہن میں زیادہ عمدگی سے محفوظ نہیں رکھ سکتی۔اس لئے دوعورتوں کی گواہی کو ایک مرد کی گواہی کے برابر قرار دیا گیا ہے۔اس آیت کی روشنی میں ایک واقعہ کی دو گواہ عورتوں کو بیک وقت قضاء میں بلایا جا سکتا ہے اور قاضی کے سامنے بھی ان میں سے ایک عورت دوسری کو یاد دلا سکتی ہے کہ بہن یہ بات یوں نہیں بلکہ یوں ہے۔گویا جس طرح مرد بعض باتوں کا سوچ کر جواب دیتا ہے اسی طرح عورتیں بھی ایک دوسری کو یاد دلا کر جواب دے سکتی ہیں۔پھر جس بات پروہ دونوں اتفاق کریں وہی ان کی گواہی سمجھی جائے گی۔مرد کے مقابلہ میں دو عورتوں کی گواہی رکھنے میں حکمت یہ ہے کہ ہر شخص جو کسی کام کا عادی ہوتا ہے وہ بہ نسبت دوسروں کے جو اس کام میں نہ پڑے ہوں زیادہ تجربہ کار ہوتا ہے۔مرد چونکہ لین دین کے معاملات اور مقدمات وغیرہ میں اکثر حصہ لیتے رہتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ شہادت دینا کتنی بڑی ذمہ داری کا کام ہے۔اس لئے وہ تمام واقعات کو احتیاط سے یاد رکھتے اور ہوشیاری سے اپنا بیان لکھواتے ہیں لیکن عورتوں کا نہ تولین دین کے معاملات میں زیادہ دخل ہوتا ہے اور نہ عدالتوں کی کارروائی سے وہ واقف ہوتی ہیں۔ان کا دائرہ عمل صرف گھریلو زندگی تک