تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 522 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 522

محدود ہوتا ہے۔اس لئے ہو سکتا ہے کہ کسی بات کو وہ پورے طور پر یاد نہ رکھ سکیں۔اس احتیاط کے پیش نظر ایک مرد کی بجائے دوعورتوں کی گواہی مقرر کی گئی ہے۔مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَآءِ کے متعلق بعض نے کہا ہے کہ یہ مِنْ رِّجَالِكُمْ کا بدل ہے بعض نے کہا ہے کہ فَرَجُلٌ وَّ امْرَاَتٰنِ کی صفت ہے (روح المعانی زیر آیت ھذا)۔لیکن اَبوحَیّانؔ کا قول ہے کہ یہ اِشْتَشْھِدُوْا سے متعلق ہے اور یہی درست ہے۔یعنی اس جگہ اہلیت اور پسندیدگی کی شرط مردوں اور عورتوں دونوں کے لئے ہے۔صرف مردوں یا صرف عورتوں کے لئے نہیں۔وَ لَا يَاْبَ الشُّهَدَآءُ اِذَا مَا دُعُوْا۔یہ نواں حکم دیا کہ جب گواہوں کو گواہی کے لئے بلایا جائے تو وہ انکار نہ کریں اور خواہ کسی فریق کی ناراضگی کا ہی خطرہ ہو پھر بھی سچی سچی بات بیان کر دیں۔وَ لَا تَسْـَٔمُوْۤا اَنْ تَكْتُبُوْهُ صَغِيْرًا اَوْ كَبِيْرًا اِلٰۤى اَجَلِهٖ۔اس جگہ اجل کو اجلہٖ کہہ کر پھر پہلے حکم کو دہرا دیا ہے جس کا اِذَا تَدَايَنْتُمْ بِدَيْنٍ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّىمیں ذکر کیا گیا تھا۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ غیر میعادی قرضہ کو نہ لکھو یا صرف مدت کی مقدار لکھ لو اور قرض کو مبہم رہنے دو۔بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرض بھی لکھ لو اور مدت بھی مقرر کر لو۔چونکہ الی کے ایک معنے مع کے بھی ہوتے ہیں۔اس لئے اس کے یہ معنے بھی ہو سکتے ہیں کہ مدت کو بھی ساتھ ہی لکھ لیا کرو۔گویا قرض اس کی ادائیگی کی میعاد اور شہادت سب باتوں کو اکٹھا لکھو تاکہ دوسرے کو خیانت کا موقعہ ہی نہ ملے۔ذٰلِکَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰہِ وَ اَقْوَمُ لِلشَّھَادَۃِ فرماتا ہے۔یہ بات انصاف کو قائم کرنے والی اور شہادت کو درست رکھنے والی ہے۔اگر یہ قانون نہ رکھا جاتا تو نہ تو انصاف قائم ہو سکتا اور نہ ہی شہادت درست رہ سکتی۔وَ اَدْنٰۤى اَلَّا تَرْتَابُوْۤا۔اس میں بتایا کہ اس قانون کی اتباع کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ تم دوسرے کی دیانت اور امانت کے متعلق مختلف قسم کے وساوس اور شبہات سے محفوظ رہو گے۔اور اپنے روپیہ کے متعلق بھی تمہیں اطمینان رہے گا کہ وہ ضائع نہیں ہو سکتا۔اِلَّا اَنْ تَکُوْنَ تِجَارَۃً حَاضِرَۃً تُدِیْرُوْنَھَا بَیْنَکُمْ۔فرماتا ہے کہ ہم اس قانون میں ایک استثنیٰ کرتے ہیں اور وہ یہ کہ اگر ایسی تجارت ہو جو آمنے سامنے کی اور دست بدست ہو جسے تم اِدھر اُدھر چکر دیتے ہو تو ایسی صورت میں اگر تم اسے تحریر میں نہ لائو تو تم پر کوئی گناہ نہیں۔کیونکہ وہ دین نہیں۔گویا اگر حاضر تجارت ہو اور ایک تاجر دوسرے تاجر کو کہہ دے کہ میرا مال فلاں گو دام میں پڑا ہوا ہے میں ابھی جا کرلے آتا ہوں آپ مجھے اتنا روپیہ دے دیں تو ایسی